گزشتہ روز یکم جنوری 2026 کو افغانستان کے علاقے میدان وردگ میں برف پوش پہاڑوں میں ایک بھارتی فکسڈ-وِنگ ڈرون گر کر تباہ ہو گیا۔ یہ مقام کابل سے تقریباً 40 سے 50 کلومیٹر مغرب/جنوب مغرب میں واقع ہے۔
ابتدائی طور پر حادثے کے فوری بعد کئی مشاہدین نے مذکورہ بھارتی ڈرون کو اسرائیل کی تیار کردہ ہیروں UAV کے طور پر شناخت کیا، جو اس خطے میں بھارتی نگرانی کے آپریشنز سے منسلک رہی ہے۔ تاہم بعد میں ملنے والے ملبے کی تکنیکی جانچ نے ہیروں UAV ہونے کے امکان کو خارج کر دیا اور تصدیق کی کہ یہ MQ-9 ڈرون فیملی کا حصہ ہے۔
مزید تفصیلی فریم بہ فریم تجزیے میں ڈرون کے پروں پر منحنی، ایک طرفہ ونگ لیٹس دیکھی گئیں، جو / سی گارڈین / سکائی گارڈین کی نشانی ہے اور اسے “بگ ونگ ” MQ-9B بھی کہا جاتا ہے، کی ایک منفرد ڈیزائن خصوصیت ہے۔
MQ-9B سکائی گارڈین بھارت کے زیرِ استعمال ہے، اور یہ خطے میں اس قسم کے ڈرون کا واحد معروف آپریٹر ہے۔ بھارت کے پاس فی الوقت چار MQ-9B سکائی گارڈین ڈرون موجود ہیں جو طویل عرصے تک جاری رہنے والے انٹیلی جنس، نگرانی اور ریکانائسنس مشنز کے لیے خریدے گئے ہیں۔
اب طالبان حکومت کے لیے کلیدی سوالات یہ ہیں کہ: بھارتی ڈرون آپریشنز افغان فضائی حدود میں کیوں اجازت دی گئی؟ کیا افغان طالبان نے حقیقتاً اپنی خودمختاری اور فضائی حدود بھارت کو انٹیلی جنس سرگرمیوں کے لیے کرائے پر دی ہیں؟ اور سب سے اہم، کیا افغانستان کی فضائی حدود بھارت کی جاسوسی کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، جس سے پاکستان، چین اور ایران کے خلاف انٹیلی جنس سرگرمیوں میں افغانستان ایک خاموش پلیٹ فارم بن رہا ہے؟
اگر یہ حقیقت ہے، تو افغانستان خطے میں بھارت کے خفیہ انٹیلی جنس کارڈ کے طور پر تبدیل ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں خطے کے استحکام اور اعتماد پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔