پاکستان نے بھارتی وزیرِ خارجہ کی جانب سے دیے گئے بیانات کو ‘غیر ذمہ دارانہ اور گمراہ کن’ قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے اور کہا کہ نئی دہلی ایک بار پھر خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والی اپنی پالیسیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
میڈیا کے سوالات کے جواب میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ بھارت بے بنیاد الزامات لگا کر ایک پڑوسی کے طور پر اپنے ’تشویشناک ریکارڈ‘ پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر الزام تراشی کے بجائے بھارت کو دہشتگردی اور عدم استحکام کو فروغ دینے میں اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔
ترجمان نے کہا کہ خصوصاً پاکستان میں دہشتگرد سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بھارت کے کردار کے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کمانڈر کلبھوشن یادیو کے کیس کو پاکستان کے خلاف منظم، ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی دہشتگردی کی واضح مثال قرار دیا۔ انہوں نے بیرونِ ملک ٹارگٹ کلنگ، پراکسیز کے ذریعے تخریبی کارروائیوں اور دہشتگرد نیٹ ورکس کی خفیہ سرپرستی کے بار بار واقعات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ طرزِ عمل ہندوتوا کی انتہا پسندانہ سوچ کا عکاس ہے، جس کے پیروکار نہ صرف بھارت کے اندر بلکہ خطے سے باہر بھی تشدد اور عدم برداشت کو فروغ دے رہے ہیں۔
ترجمان نے بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں کشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت علاقے پر مسلسل غیر قانونی اور پرتشدد فوجی قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کے لیے پاکستان کی ’مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت’ کے عزم کا اعادہ کیا، جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے۔
پانی کے تحفظ سے متعلق امور پر بات کرتے ہوئے طاہر اندرابی نے سندھ طاس معاہدے کو ایک اہم بین الاقوامی معاہدہ قرار دیا، جو نیک نیتی اور بھاری قیمت ادا کر کے طے پایا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی کسی بھی یکطرفہ خلاف ورزی سے نہ صرف علاقائی استحکام کو شدید نقصان پہنچے گا بلکہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے بھارتی دعوؤں پر بھی سوالات اٹھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا‘ اور واضح کیا کہ پاکستان تنازعات کے حل کے لیے مکالمے، بین الاقوامی قانون اور طے شدہ طریقۂ کار پر یقین رکھتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں امن و سلامتی پر بھارتی اقدامات کے اثرات کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔