امریکا کا ایران پر بڑا وار، عباس عراقچی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت سے محروم

امریکا کا ایران پر بڑا وار، عباس عراقچی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت سے محروم

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے دوران امریکا نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کو نیویارک کا ویزا جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اس اقدام کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ رواں ہفتے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے تحت ہونے والی اہم ترین عالمی بحث میں شرکت نہیں کر سکیں گے، جس سے پاک امریکا، ایران پسِ پردہ سفارت کاری کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

سلامتی کونسل کا اجلاس اور چینی صدارت

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا یہ اہم اجلاس چین کی صدارت میں منعقد ہو رہا ہے، جس کی سربراہی چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی کریں گے۔

اجلاس کا مرکزی موضوع

اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کا تحفظ اور اقوامِ متحدہ کے مرکزی عالمی نظام کو مضبوط بنانا‘۔ چینی حکام نے موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے تناظر میں اس سیشن کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ اس اجلاس میں کثیرالجہتی سفارت کاری (ملٹی لیٹرل ازم) کو فروغ دینے اور تنازعات کو مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیا جائے گا۔

ایران کی تصدیق اور سفارتی اثرات

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ ویزا کے مسائل (امریکی انکار) کے باعث وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نیویارک کا سفر نہیں کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل سید عاصم مینر اور عباس عراقچی کے درمیان رات دیر تک مذاکرات ہوئے، انتہائی حساس معالات زیر بحث رہے، ایرانی میڈیا

واضح رہے کہ چونکہ ایران سلامتی کونسل کا مستقل یا عارضی رکن نہیں ہے، اس لیے عباس عراقچی کو اس بحث میں حصہ لینے کے لیے خصوصی دعوت نامے پر شرکت کرنا تھی۔

ویزا نہ ملنے کے باعث اب نیویارک میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور ایرانی وزیرِ خارجہ کے درمیان ممکنہ براہِ راست یا بالواسطہ ملاقات کا جو آخری امکان تھا، وہ بھی مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ دوسری جانب، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی اس اجلاس میں شرکت سے متعلق تاحال حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

پاکستان کی نمائندگی اور اسحاق ڈار کا دورہ

اس اہم عالمی فورم پر پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کریں گے۔ پاکستانی وزیرِ خارجہ اجلاس میں شرکت کے علاوہ نیویارک میں قائم اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں مختلف ممالک کے رہنماؤں اور عالمی حکام سے سائیڈ لائن ملاقاتیں بھی کریں گے۔

پاکستان اس اجلاس میں روایتی طور پر چین کے اصولی مؤقف کی مکمل حمایت کرے گا اور عالمی تنازعات کے پرامن حل کیلئے اقوامِ متحدہ کے چارٹر پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر زور دے گا۔

اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کا قانون اور امریکی ویزا تنازعات

اقوامِ متحدہ کا ہیڈ کوارٹر نیویارک (امریکا) میں واقع ہے اور 1947 کے ’اقوامِ متحدہ ہیڈ کوارٹرز معاہدے‘ کے تحت امریکا اس بات کا پابند ہے کہ وہ دنیا بھر کے سفارت کاروں اور رہنماؤں کو اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے آنے کی اجازت دے اور انہیں ویزا جاری کرے، چاہے ان ممالک سے امریکا کے تعلقات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں۔

تاہم، امریکا ماضی میں بھی ’قومی سیکیورٹی اور دہشت گردی‘ کے خدشات کا استثنیٰ استعمال کرتے ہوئے ایران، کیوبا اور روس کے وزرائے خارجہ اور صدور کو ویزے دینے سے انکار کرتا رہا ہے۔

موجودہ تناظر میں چونکہ ایران اور امریکا کے درمیان قطر میں مذاکرات چل رہے ہیں اور حال ہی میں فوجی تصادم بھی ہوا ہے، امریکا نے عباس عراقچی کا راستہ روک کر یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کے فورم کو ایران کے لیے امریکی سرزمین بند کرنا چاہتا ہے۔

چین کی سبقت اور امریکی ویزا ڈپلومیسی کے مضمرات

امریکا کا ایرانی وزیرِ خارجہ کو ویزا نہ دینا محض ایک تکنیکی انکار نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سفارتی حکمتِ عملی ہے۔ اس وقت چین عالمی سطح پر خود کو ایک ’امن پسند اور ثالث‘ ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے اور اس نے سلامتی کونسل کے اس اجلاس کا ایجنڈا بھی ایسا رکھا ہے جس سے امریکا کی یکطرفہ پابندیوں کی سیاست کو نشانہ بنایا جا سکے۔

عباس عراقچی کو روک کر امریکا نے چین کے لگائے ہوئے سفارتی اسٹیج کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے، کیونکہ ایران کی عدم موجودگی میں مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر ہونے والی کوئی بھی بحث ادھوری رہے گی۔ لیکن اس اقدام کا ایک نقصان یہ ہوگا کہ عالمی برادری میں امریکا پر یہ تنقید بڑھے گی کہ وہ اقوامِ متحدہ کے میزبان ملک کے طور پر اپنے بین الاقوامی فرائض کا غلط استعمال کر رہا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ دورہ انتہائی نازک ہے، اسحاق ڈار کو نیویارک میں بیجنگ کے مؤقف کی تائید بھی کرنی ہے اور ساتھ ہی واشنگٹن کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کا توازن بھی برقرار رکھنا ہے، جو کہ موجودہ جیو پولیٹیکل ماحول میں کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔

Related Articles