ان تنظیموں کو کھالیں نہ دیں، حکومت نے فہرست جاری کردی

ان تنظیموں کو کھالیں نہ دیں، حکومت نے فہرست جاری کردی

محکمہ داخلہ پنجاب نے عید الاضحیٰ کے مذہبی تہوار کے موقع پر امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور دہشتگردی کی مالی معاونت (ٹیرا فنانسنگ) کو روکنے کے لیے ایک بڑا اور اہم ترین قدم اٹھایا ہے۔

صوبائی حکومت نے صوبے بھر میں متحرک 89 کالعدم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی زیرِ نگرانی کام کرنے والی تنظیموں کی فہرست جاری کر دی ہے، جس کے تحت ان تنظیموں کو قربانی کی کھالیں جمع کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔

شہریوں کے لیے اہم ترین سرکاری ہدایات اور قانونی وارننگ

محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں شہریوں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی قربانی کی کھالیں اور دیگر عطیات ان 89 تنظیموں یا ان کے کسی بھی ذیلی ادارے کو ہرگز مہیّا نہ کریں۔

قانونی انتباہ

انسدادِ دہشتگردی ایکٹ 1997 (اینٹی ٹیررازم ایکٹ) کے تحت کسی بھی ایسی تنظیم کی مالی، مادی یا اخلاقی معاونت کرنا ایک سنگین اور ناقابلِ ضمانت جرم تصور کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عیدالاضحیٰ پر دفعہ 144 کے نفاذ سے متعلق محکمہ داخلہ پنجاب نے احکامات جاری کردیے

کالعدم تنظیموں کی کسی بھی شکل میں مدد کرنے والے افراد کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

کھالیں جمع کرنے کا طریقہ کار اور تصدیقی نظام

صوبائی محکمہ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ اب پنجاب میں کسی بھی خیراتی یا مذہبی ادارے کے لیے فنڈز اور کھالیں جمع کرنے کا ایک باقاعدہ قانونی طریقہ کار موجود ہے، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں

پنجاب چیریٹی کمیشن کی رجسٹریشن

پنجاب میں کام کرنے والے تمام فلاحی، سماجی اداروں اور مدارس کے لیے پنجاب چیریٹی کمیشن سے رجسٹریشن کروانا قانونی طور پر لازم ہے۔

ڈپٹی کمشنر کا اجازت نامہ

مدارس اور خیراتی تنظیموں کو عید کے دنوں میں قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے کے لیے اپنے متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) سے باقاعدہ این او سی (اجازت نامہ) حاصل کرنا ہوتا ہے۔

کیو آر کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل تصدیق

شہری کسی بھی ادارے کو کھال دینے سے پہلے اس کے سرٹیفکیٹ پر موجود ’کیو آر‘ کوڈ کو اپنے موبائل سے اسکین کر کے اس کی رجسٹریشن کی فوری تصدیق کر سکتے ہیں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان کی امداد کسی شرپسند عنصر کے بجائے صحیح اور مستحق افراد تک پہنچ رہی ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ کالعدم تنظیموں کی فہرست

محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بلیک لسٹ میں شامل چند نمایاں ترین کالعدم تنظیموں اور گروہوں کے نام درج ذیل ہیں

بڑی کالعدم تنظیمیں

لشکرِ جھنگوی، سپاہِ محمد پاکستان، جیشِ محمد، لشکرِ طیبہ، سپاہِ صحابہ پاکستان، تحریکِ جعفریہ پاکستان، القاعدہ، کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، حزبِ التحریر

فلاحی و تعلیمی ٹرسٹ

الرحمت ٹرسٹ بہاولپور، الفرقان ٹرسٹ کراچی، خیر الناس انٹرنیشنل ٹرسٹ، جماعت الفرقان، خدامِ الاسلام، ملتِ اسلامیہ پاکستان

علاقائی و شدت پسند گروہ

بلوچستان لبریشن آرمی(بی ایل اے) بلوچستان ریپبلیکن آرمی (بی آر اے) ، لشکرِ اسلامی، انصارِ السلام، حاجی نامدار گروپ

دیگر مذہبی و طالب علم تنظیمیں

تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی، تحریکِ اسلامی، اسلامی تحریکِ پاکستان، جمعیتِ الانصار، اسلامک سٹوڈنٹس موومنٹ آف پاکستان

پاکستان کا ’نیشنل ایکشن پلان‘ اور ایف اے ٹی ایف کی شرائط

پاکستان طویل عرصے سے دہشتگردی کے خلاف برسرِ پیکار رہا ہے۔ ماضی میں عید الاضحیٰ کا موقع کالعدم تنظیموں کیلئے فنڈز اکٹھا کرنے کا ایک بہت بڑا سورس ہوا کرتا تھا، جہاں سے حاصل ہونے والی کروڑوں روپے کی آمدن کو ریاستی اداروں کے خلاف استعمال کیا جاتا تھا۔

جب پاکستان کو فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ’گرے لسٹ‘ کا سامنا کرنا پڑا، تو ملک نے اپنے مالیاتی اور خیراتی نظام کو شفاف بنانے کے لیے سخت اصلاحات کیں۔

نیشنل ایکشن پلان (نیپ) کے تحت پنجاب چیریٹی کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ ہر قسم کے عطیات کا ریکارڈ ڈیجیٹلائز کیا جا سکے۔ عید کے موقع پر 89 تنظیموں کی اس تفصیلی فہرست کا اجرا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ ملک دوبارہ کسی عالمی پابندی یا اندرونی بدامنی کا شکار نہ ہو۔

عید پر سیکیورٹی چیلنجز اور اسمارٹ گورننس

عید الاضحیٰ پر کھالوں کی جمع آوری کو ریگولیٹ کرنا پنجاب حکومت کے لیے ہمیشہ سے ایک بڑا انتظامی اور سیکیورٹی چیلنج رہا ہے۔ کالعدم تنظیمیں اکثر اپنے نام تبدیل کر کے یا نئے ’فلاحی ٹرسٹ‘ بنا کر معصوم شہریوں کو گمراہ کرتی ہیں اور مذہبی جذبات کا فائدہ اٹھا کر کھالیں حاصل کر لیتی ہیں۔

انتظامی نقطہِ نظر

محکمہ داخلہ کی جانب سے سرٹیفکیٹ پر ’کیو آر‘ کوڈ کی شرط عائد کرنا ’اسمارٹ گورننس‘ کی طرف ایک بہترین پیشرفت ہے۔ اس اقدام سے روایتی کاغذی کارروائی اور جعلی اجازت ناموں کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

تاہم  اصل چیلنج عید کے تینوں دن فیلڈ میں اس قانون کا نفاذ ہے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو متحرک رہنا ہوگا کیونکہ اگر ان 89 تنظیموں میں سے کسی ایک نے بھی خفیہ طور پر یا کسی نئے نام سے کھالیں جمع کیں، تو یہ نیشنل ایکشن پلان کی خلاف ورزی ہوگی۔

شہریوں پر بھی یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جذبات کے بجائے ہوشمندی سے کام لیں اور اپنی زکوٰۃ و صدقات کو دہشتگردی کا ایندھن بننے سے بچائیں۔

Related Articles