پاکستان کے اسٹار فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی اس وقت لاہور کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں اپنی انجری کی بحالی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں، جہاں ان کی بحالی کا عمل پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل پینل کی نگرانی میں جاری ہے۔
پی سی بی حکام کو امید ہے کہ شاہین شاہ آفریدی مکمل فٹ ہو کر آئندہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق شاہین کی فٹنس، گھٹنے کی کیفیت اور ورک لوڈ کا باقاعدہ اور مسلسل اسسمنٹ کیا جا رہا ہے۔ میڈیکل ٹیم مرحلہ وار بنیادوں پر ان کی ریکوری کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ پیچیدگی یا انجری کے دوبارہ ہونے کے خطرے سے بچا جا سکے۔
میڈیکل ٹیم کی کڑی نگرانی
میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شاہین شاہ آفریدی کی ری ہیب پروسیس میں مکمل احتیاط برتی جا رہی ہے اور انہیں کسی بھی صورت جلد بازی میں میدان میں اتارنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ پی سی بی حکام کے مطابق قومی ٹیم کے اہم فاسٹ بولر کی صحت اور طویل المدتی فٹنس بورڈ کی اولین ترجیح ہے۔
واضح رہے کہ شاہین شاہ آفریدی گھٹنے کی تکلیف کے باعث آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ سے دستبردار ہو گئے تھے۔ انجری کی وجہ سے وہ لیگ میں اپنی ٹیم کی نمائندگی نہ کر سکے، جس کے بعد ان کی جگہ پاکستان ہی کے فاسٹ بولر زمان خان کو برسبین ہیٹ نے اپنے اسکواڈ میں شامل کر لیا۔
زمان خان برسبین ہیٹ کا حصہ
برسبین ہیٹ کی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ زمان خان کو شاہین شاہ آفریدی کے متبادل کے طور پر ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ ٹیم انتظامیہ کے مطابق زمان خان ہفتے کو سڈنی تھنڈرز کے خلاف ہونے والے میچ کے لیے دستیاب ہوں گے۔
زمان خان اپنی رفتار، جارح مزاج بولنگ اور ڈیتھ اوورز میں مؤثر کارکردگی کے باعث شہرت رکھتے ہیں۔ کرکٹ ماہرین کے مطابق حالیہ کارکردگی کی بنیاد پر ان کی شمولیت برسبین ہیٹ کے لیے ایک اہم اضافہ ثابت ہو سکتی ہے۔
قومی ٹیم کے لیے امید افزا خبر
دوسری جانب پی سی بی حکام کا کہنا ہے کہ اگر شاہین شاہ آفریدی بروقت اور مکمل ریکوری حاصل کر لیتے ہیں تو یہ قومی ٹیم کے لیے ایک خوش آئند خبر ہوگی، کیونکہ وہ پاکستان کے باؤلنگ اٹیک کا ایک اہم ستون سمجھے جاتے ہیں۔
بورڈ کے مطابق شاہین کی مکمل صحت یابی کے بعد ہی ان کی واپسی سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا، تاکہ وہ آئندہ بڑے ایونٹس میں پاکستان کے لیے بھرپور کردار ادا کر سکیں۔