خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو ساز گار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے ، ترجمان پاک فوج

خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو ساز گار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے ، ترجمان پاک فوج

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جانا ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی کے خلاف کہاں کھڑی ہے اس حوالے سے  ڈی جی آئی ایس پی آر نے سہیل آفریدی اور اقبال آفریدی کے بیان چلا دیے ،  ایران، چین اور دیگر ممالک کہہ رہے ہیں کہ افغانستان دہشتگردی میں ملوث ہے جبکہ پی ٹی آئی حکومت اس حوالے سے جھوٹا بیانہ بنا رہی ہے ‘دہشتگردی پاکستان کے اندر سے ہو رہی ہے’۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران خیبرپختونخوا حکومت کے کئی وزرا کے کئی ویڈیو کلپس بھی چلائے، جن میں صوبے کے وزیر اعلیٰ سمیت متعدد وزرا مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’آپریشن نہیں کرنا تو کیا دہشتگردوں کے پیروں میں بیٹھنا ہے،  ان کا کہنا تھا کہ ان (کے پی حکومت) کا بیانیہ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ یہ خود کہہ رہے ہیں کہ افغانستان سے دوسرے ملکوں پرحملہ کیوں نہیں ہوتا ،  کچھ عناصر فتنہ الخوارج کے منظور نظر بننا چاہتے ہیں ، پاکستان میں بیٹھ کر افغانستان سے مدد کی بھیک مانگی جارہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اے این پی کو کے پی میں غیر مقبول کیا گیا لیکن انہوں نے اور باقی سیاسی جماعتیں دہشتگردوں کے خلاف کھڑی ہوئیں اور سینوں میں گولیاں کھائیں لیکن پی ٹی آٗئی والے کہہ رہے ہیں ہم مرنے کو تیار نہیں ہم ان کے ساتھ شامل ہوںگے ، یہ سوچنے کی بات ہے کبھی ان دہشتگردوں نے PTI والوں پر کیوں حملہ نہیں کیا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یہ کہتے ہیں معدنیات کی جنگ ہے؟ 5000 لائسنسز کس نے ایشو کئے ہیں؟ ان معدنیات کا فائدہ تب ہوگا جب وہاں امن ہوگا تبھی ترقی ہوگی ۔

ہندوستان کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جا رہی

ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ معرکہ حق اور اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر جھڑپیں ہوئیں، معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا گیا اور انہیں سبق سکھایا گیا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ ہندوستان کون ہوتا ہے کہ ہمارے کسی شہری کو نشانہ بنائے،  یہ حق ہندوستان کو کسی نے نہیں دیا کہ وہ پاکستان کے کسی شہری یا انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچائے، ہندوستان کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جا رہی۔

انہوں نے کہا کہ پاک افغان بارڈر پر دہشت گردوں پر حملے کیے گئے، افغان طالبان رجیم نے پاکستانی پوسٹس پر حملہ کیے، پھر جو ضروری تھا وہ کیا گیا اور ایک ہارڈ میسیج دیا گیا، آخری تین مہینوں میں ہم نے بارڈر بند کر دیے، دیکھنے والوں اور سمجھنے والوں کے لیے یہاں بھی کئی نشانیاں ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اکتوبر 2025 میں دہشت گردوں پر پاک افغان بارڈر پر حملے کیے گئے، گھنٹوں میں درجنوں افغان پوسٹوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا، افغانستان میں انکلیوسو گورنمنٹ نہ ہونے سے دہشت گردی کو فروغ ملا۔

ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ کون کون دہشت گرد ہیں

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ کون کون دہشت گرد ہیں اور کہاں کہاں کس کو جگہ دے رہے ہیں، افغانستان میں کئی دہشت گرد تنظیموں کے سرغنہ اور تربیتی کیمپ موجود ہیں، بنیادی ٹارگٹ کون ہے، اس پر نظر ڈالیں تو دس بڑے واقعات نظر آتے ہیں، ان میں کون ملوث ہے؟ یہ تمام افغانی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : دہشتگردی کیخلاف جنگ پوری قوم کی جنگ، خاتمے کے لیے پرعزم ہیں ، ترجمان پاک فوج

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے سویلین اور سافٹ ٹارگٹس پر حملے کیے، جعفر ایکسپریس حملے میں 21 سویلینز شہید کیے گئے، نوشکی میں سویلین بس پر حملہ کیا گیا، یہ تمام دہشت گردانہ حملے افغانیوں نے کیے۔ اے پی ایس وانا میں افغان دہشت گردوں نے اے پی ایس پشاور دہرانے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ آپ کی فوج کوئی Collateral damage نہیں کرتی، ہم صرف دہشتگردوں اور اُن کے سہولت کاروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

جو کہتے ہیں آپریشن نہیں ہونے دیں گے کیا وہ ریاست سے بڑھ کر ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ آئین واضح طور پر کہتا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور سالمیت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا کہہ رہی ہے کہ افغانستان سے دہشتگردی ہو رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی حکومت افغانستان سے مدد مانگ رہی ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ جب افغانستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو ان کا وزیر خارجہ بھارت میں بیٹھا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ بی ایل اے اس وقت فتنہ الخوارج کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال اٹھایا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے، کیا وہ ریاست سے بڑھ کر ہیں؟انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ادارے اتنے مضبوط نہیں جتنے ہونے چاہئیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ ہم کسی سیاسی جماعت سے بات نہیں کرتے، بات چیت کرنا سیاسی حکومت کا کام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک لیڈر اپنی پارٹی کو ڈکٹیٹر کے طور پر چلاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی سیاسی جماعت سے کوئی مسئلہ نہیں، جنہوں نے بات کرنی ہے وہ حکومت سے کریں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے معدنیات کے لیے 4 ہزار 970 لائسنس جاری کیے ہیں، جبکہ صوبے میں غیر قانونی کان کنی بھی ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی سلامتی، عالمی وقار میں نمایاں بہتری کا اعتراف، خیبرپختونخوا کے عوام نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ہیرو قرار دیدیا

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *