32 ہزار سال پرانا پھول دوبارہ کھل اٹھا، سائنسدان بھی حیران رہ گئے

32 ہزار سال پرانا پھول دوبارہ کھل اٹھا، سائنسدان بھی حیران رہ گئے

سائنسدانوں نے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس نے قدرت کی حیرت انگیز صلاحیتوں کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ تقریباً 32 ہزار سال پرانے ایک پودے کو دوبارہ زندہ کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔

یہ قدیم پھول کسی جادو یا غیر معمولی عمل سے نہیں بلکہ قدرتی طور پر محفوظ رہ جانے والے زندہ خلیوں کی وجہ سے دوبارہ نشوونما پا سکا۔ یہ پودا سائبیریا کی برفانی زمین میں ہزاروں سال تک محفوظ رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں :پرندہ یا الارم سسٹم؟ طوطے کی کہانی نے سب کو چونکا دیا

تحقیقی جریدے پی این اے ایس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے سائلین اسٹینوفیلا نامی پودے کو ایک قدیم پھل کے اندر موجود بافتوں سے دوبارہ اگایا۔ یہ پھل سائبیریا میں ایک قدیم زمینی گلہری کے بل سے دریافت ہوا تھا، جسے ریڈیو کاربن ٹیسٹ کے ذریعے تقریباً 31 ہزار 800 سال پرانا قرار دیا گیا۔

تحقیق کے مطابق اس قدیم پودے کے زندہ خلیوں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس کے بعد مکمل پودا تیار ہوا، اس میں پھول بھی کھلے اور اس نے نئے بیج بھی پیدا کیے۔

یہ بھی پڑھیں :دنیا کا سب سے چھوٹا ہینڈ بیگ، قیمت 1 کروڑ 78 لاکھ روپے سے زائد

سائنسدانوں کے مطابق حیران کن بات یہ ہے کہ وہ پرانے بیجوں کو براہ راست اگانے میں کامیاب نہیں ہوئے، بلکہ پھل کے اندر موجود زندہ ٹشو نے دوبارہ زندگی حاصل کی۔

یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض پودوں کے خلیے انتہائی سخت موسمی حالات میں بھی ہزاروں سال تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔

برفانی دور گزر چکا ہے، لیکن 32 ہزار سال پرانے اس پھول نے ثابت کر دیا ہے کہ قدرت کے پاس زندگی کو محفوظ رکھنے کے ایسے راز موجود ہیں جنہیں سائنس ابھی بھی سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

editor

Related Articles