فیشن اور آرٹ کی دنیا میں ایک انتہائی حیران کن تخلیق نے سب کو چونکا دیا ہے، جہاں ایک مائیکروسکوپک ہینڈ بیگ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانی روپے میں فروخت ہوا۔
امریکی آرٹ گروپ ایم ایس سی ایچ ایف کی تیار کردہ یہ انتہائی چھوٹی ہینڈ بیگ جون 2023 میں جوپیٹر جسٹ فہریںڈز آکشن کے دوران نیلام کی گئی، جو مشہور آرٹسٹ فہریل ولیمس کے پلیٹ فارم پر منعقد ہوئی۔
یہ بیگ صرف 657 x 222 x 700 مائیکرو میٹر کے سائز کا ہے، یعنی نمک کے ایک دانے سے بھی چھوٹا، جسے عام آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں۔ اس کی مکمل تفصیل صرف خوردبین کے ذریعے واضح ہوتی ہے۔
نیلامی میں یہ منفرد آرٹ پیس 63,750 امریکی ڈالر میں فروخت ہوا، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 1 کروڑ 78 لاکھ روپے سے زائد بنتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ قیمت آن دی گو کا لوئس ویٹان ٹوٹ بیگ سے تقریباً 20 گنا زیادہ ہے جس کی یہ نقل ہے۔
یہ مائیکرو بیگ نہ صرف ایک فیشن اسٹیٹمنٹ ہے بلکہ آرٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج کی بھی ایک مثال سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تخلیق یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ کیا آج کے دور میں آرٹ کی اصل قدر اس کی افادیت ہے یا اس کی نایابی اور تصوراتی پہلو۔
سوشل میڈیا پر اس پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، کچھ لوگ اسے ذہانت اور تخلیقی صلاحیت کی معراج قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ اسے محض ایک مہنگا دکھاوا سمجھتے ہیں۔