ملک میں مہنگائی کی نئی لہر کے باعث غریب اور متوسط طبقے کے لیے مرغی اور انڈے جیسی بنیادی غذائی اشیاء بھی مشکل سے دستیاب ہوتی جا رہی ہیں۔
مرغی کے گوشت کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھ گئی ہیں، جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، صرف 11 روپے فی کلو کے اضافے کے ساتھ ہی مرغی کے گوشت کی قیمت چھٹی سنچری کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
صرافہ اور پولٹری مارکیٹ ذرائع کے مطابق تازہ اضافہ کے بعد برائلر مرغی کا گوشت 595 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گیا ہے، جبکہ صاف گوشت کی قیمت 700 روپے فی کلوگرام کی ریکارڈ سطح پر جا پہنچی ہے۔
اسی طرح زندہ برائلر مرغی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں فارم ریٹ 383 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے۔ تھوک مارکیٹ میں زندہ مرغی 397 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے، جبکہ پرچون سطح پر اس کی قیمت 411 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔
دوسری جانب فارمی انڈوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، مارکیٹ میں فارمی انڈے 320 روپے فی درجن کے حساب سے فروخت ہو رہے ہیں، جو عام صارفین کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں پہلے ہی گوشت اور دیگر پروٹین ذرائع عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں، اب مرغی اور انڈے بھی آہستہ آہستہ دسترخوان سے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پولٹری فیڈ کی بڑھتی قیمتیں، بجلی اور گیس کے اخراجات، ٹرانسپورٹ کے بڑھتے کرائے اور موسمی اثرات مرغی اور انڈوں کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ دنوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔