سونے کی قیمتوں میں مسلسل کمی، آج کے نئے نرخ جاری

سونے کی قیمتوں میں مسلسل کمی، آج کے نئے نرخ جاری

عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا رجحان برقرار ہے، جس کے تحت آج نئے نرخ جاری کر دیے گئے ہیں۔ عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی کے اثرات مقامی صرافہ بازاروں میں بھی واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں جمعرات کو فی اونس سونے کی قیمت میں 6 ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد سونے کی نئی عالمی قیمت 4 ہزار 438 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گئی۔ عالمی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مالیاتی پالیسیوں کے باعث قیمتی دھاتوں پر دباؤ برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سونے کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کمی، چاندی بھی سستی ہوگئی

دوسری جانب مقامی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت میں 600 روپے کمی ہوئی، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 66 ہزار 162 روپے مقرر کی گئی۔ اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت 515 روپے گھٹ کر 3 لاکھ 99 ہزار 658 روپے کی سطح پر آ گئی۔

سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی کی قیمت 236 روپے کمی کے بعد 8 ہزار 125 روپے ہو گئی، جبکہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت 203 روپے کم ہو کر 6 ہزار 915 روپے کی سطح پر آ گئی۔

واضح رہے کہ پاکستان میں سالانہ سونے کی طلب 60 سے 90 ٹن کے درمیان رہتی ہے، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 8 سے 12 ارب ڈالر بنتی ہے، تاہم اس کا 90 فیصد سے زائد کاروبار تاحال غیر دستاویزی ہے۔ اس صورتحال کے باعث نہ صرف شفافیت متاثر ہوتی ہے بلکہ قومی معیشت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی ’پاکستان کی سونے کی مارکیٹ‘ سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ملکی سطح پر سونے کی تقریباً 70 فیصد طلب شادی بیاہ اور دیگر تقریبات سے منسلک ہے، جس کی وجہ سے مخصوص سیزنز میں قیمتوں پر اضافی دباؤ آ جاتا ہے۔

مزید پڑھیں:تاریخی اضافے کے بعد سونے کی قیمت میں 900 روپے کمی، فی تولہ قیمت کیا رہی ؟

رپورٹ کے مطابق پاکستان سونے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ مالی سال 2024 کے دوران تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کا سونا درآمد کیا گیا، جبکہ ملک کے سرکاری سونے کے ذخائر 2025 کے اختتام تک 64.76 ٹن ریکارڈ کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 9 ارب ڈالر کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔

مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا تو مقامی سطح پر بھی سونے کی قیمتوں میں مزید رد و بدل کا امکان موجود ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *