پاکستان افغانستان کے ساتھ سہ فریقی میکنزم جاری رکھنے پر متفق ہے، ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان افغانستان کے ساتھ سہ فریقی میکنزم جاری رکھنے پر متفق ہے، ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان نے جموں کشمیر، علاقائی امن اور بین الاقوامی سفارت کاری پر اپنے مؤقف کو ایک بار پھر واضح کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ سہ فریقی تعاون کے میکنزم کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

جمعرات کو دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے وفاقی دارالحکومت میں ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ اس ہفتے جموں کشمیر کے لیے حقِ خود ارادیت کا دن اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق منایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی زیرِ انتظام جموں کشمیر میں ہزاروں سیاسی رہنما اور انسانی حقوق کے کارکن اب بھی قید ہیں۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت 5 اگست 2019 سے مقبوضہ کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چیف آف ڈیفنس فورسز کے دورہ امریکا سے متعلق رائٹرز کی خبر درست نہیں، دفتر خارجہ

پاکستان چین تعلقات پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے حال ہی میں چین کا دورہ کیا، جہاں پاکستان چین اسٹریٹجک مذاکرات ہوئے اور بعد ازاں مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کی قومی وحدت کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور چینی قیادت کو جموں کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ ان کے مطابق چین کشمیر کے تنازع کو تاریخ کا ایک حل طلب مسئلہ سمجھتا ہے۔

سفارتی روابط کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے 6 جنوری کو میانمار کے وزیرِ خارجہ سے رابطہ کیا، جبکہ انہوں نے انڈونیشیا اور مصر کے وزرائے خارجہ اور بنگلہ دیش کے خارجہ مشیر سے بھی بات چیت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ نائب وزیرِ اعظم نے ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کے ساتھ بھی علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ترجمان نے بھارتی وزیرِ خارجہ کے بیان کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کیا اور کہا کہ بھارت کا خطے اور دنیا میں دہشت گردی کی حمایت کا ریکارڈ دستاویزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر الزامات بھارت کی امن مخالف سرگرمیوں کو چھپا نہیں سکتے اور نئی دہلی کو دوسروں کو نصیحت کرنے کے بجائے خود اصلاح کی ضرورت ہے۔

طاہر حسین اندرابی نے نئی دہلی میں واقع فیض الٰہی مسجد اور اس سے ملحقہ املاک کی مسماری کی بھی شدید مذمت کی اور اسے مسلمانوں کے خلاف وسیع تر مہم کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام 1992 میں بابری مسجد کی شہادت اور بعد ازاں مندر کی تعمیر کے تسلسل کی کڑی ہے، جو بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز پالیسیوں کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان سعودی عرب تعلقات اور افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاع سمیت مختلف شعبوں میں بہترین تعاون ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سہ فریقی میکنزم جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے افغانستان کے بیانات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب بھی اس بات کا منتظر ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی ٹھوس، قابلِ تصدیق اور عملی ضمانتیں دی جائیں۔

مزید پڑھیں:تاجکستان ڈرون حملےاور امریکہ میں فائرنگ کی ذمہ دار افغان حکومت ہے،دفتر خارجہ

ترجمان نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان، بنگلہ دیش اور چین کے درمیان سہ فریقی میکنزم کے تحت ایک اجلاس ہوا تھا اور پاکستان اس تعاون کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سہ فریقی تعاون کا مقصد خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے اور مشترکہ اعلامیے میں اس فریم ورک کے تحت نئے اور عملی نتائج حاصل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

ایران کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ سال ایران کے خلاف 12 روزہ جارحیت کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی داخلی صورتحال اس کا اندرونی معاملہ ہے اور پاکستان کسی بھی ملک کے اندرونی امور پر تبصرہ نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ایران کے خلاف بیرونی جارحیت، دھمکیوں اور پابندیوں کی مخالفت کی ہے، جن میں جوہری معاہدے سے متعلق پابندیاں بھی شامل ہیں، جنہیں پاکستان غیر تعمیری سمجھتا ہے۔

پریس بریفنگ کے اختتام پر طاہر حسین اندرابی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کسی بھی ہمسایہ ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا اور باہمی احترام کی بنیاد پر علاقائی امن، مکالمے اور تعمیری روابط کے لیے پرعزم ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *