چیف آف ڈیفنس فورسز، آرمی چیف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ افواج پاکستان نے قومی سلامتی کو درپیش تمام خطرات کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی ہوئی ہیں اور ملک کے دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے لاہور گیریژن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فوجی افسران اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان ملک کی جغرافیائی سرحدوں اور داخلی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر چوکس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بدلتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور تیاری ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
دورے کے دوران فیلڈ مارشل کو فارمیشن کی آپریشنل تیاریوں، تربیتی امور اور دیگر پیشہ ورانہ معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
انہوں نے خصوصی فیلڈ مشقوں کا مشاہدہ کیا اور فارمیشن کے زیر اہتمام جاری تربیتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مشقوں میں جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی مشقیں مستقبل کی جنگوں کے تقاضوں کے مطابق تیاری کے لیے نہایت اہم ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے مستقبل کی جنگوں کے تناظر میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، جدت اپنانے اور مسلسل تربیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک فوج جدید خطوط پر استوار رہتے ہوئے ہر ممکن خطرے کا مؤثر جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
فیلڈ مارشل نے جوانوں کو فراہم کردہ کھیلوں اور تفریحی سہولتوں کو بھی سراہا اور کہا کہ جسمانی و ذہنی فٹنس جنگی تیاری کا اہم حصہ ہے۔ اس موقع پر انہوں نے جوانوں کے بلند حوصلے اور پیشہ ورانہ لگن کی تعریف کی۔
دورے کے اختتام پر آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز و فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سی ایم ایچ لاہور میں قائم ہائی کیئر سینٹر کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے طبی سہولتوں کا جائزہ لیا۔ فیلڈ مارشل نے طبی عملے اور انتظامیہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ زخمی جوانوں کی بہترین دیکھ بھال اور علاج فوج کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل کا یہ دورہ افواج پاکستان کی آپریشنل تیاریوں، فلاح و بہبود اور پیشہ ورانہ معیار کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔