امریکا کا شام میں داعش کے خلاف بڑا فضائی آپریشن، متعدد ٹھکانے نشانہ بنا ئے گئے

امریکا کا شام میں داعش کے خلاف بڑا فضائی آپریشن، متعدد ٹھکانے نشانہ بنا ئے گئے

امریکا نے شام میں شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیاں کرتے ہوئے اس کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اتحادی افواج کے تعاون سے شام کے مختلف علاقوں میں داعش کے مراکز پر منظم اور بھرپور فضائی حملے کیے گئے ہیں، جن کا مقصد دہشت گرد تنظیم کی کارروائیوں کو کمزور کرنا ہے۔

سینٹکام کے مطابق یہ حالیہ فضائی حملے “آپریشن ہاک آئی اسٹرائیک” کا حصہ ہیں، جس کا آغاز 19 دسمبر 2025 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کیا گیا تھا۔ اس آپریشن کا بنیادی مقصد داعش کے نیٹ ورک کو نشانہ بنانا، اس کی تنظیمی صلاحیت کو ختم کرنا اور مستقبل میں ممکنہ حملوں کو روکنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :وینزویلا نے امریکی حملے میں ہلاکتوں کی حتمی تعداد جاری کردی

امریکی حکام کے مطابق اس آپریشن کی بنیاد 13 دسمبر کو شام کے تاریخی شہر پالمیرا میں ہونے والا وہ حملہ بنا، جس میں داعش کے جنگجوؤں نے امریکی اور شامی افواج کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں دو امریکی فوجی اور ایک امریکی شہری مترجم ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد امریکا نے داعش کے خلاف کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا فیصلہ کیا۔

سینٹکام کا کہنا ہے کہ حالیہ فضائی حملے نہ صرف داعش کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے کیے گئے ہیں بلکہ ان کا مقصد خطے میں موجود امریکی اور اتحادی افواج کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی ہے۔ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ داعش کی کسی بھی قسم کی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں :عالمی افق پر نئی کشیدگی کے امکانات، امریکہ اور روس آ منے سامنے آگئے،حالات کشیدہ

بیان میں مزید خبردار کیا گیا کہ اگر مستقبل میں امریکی فوجیوں یا شہریوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو اس کے ذمہ دار عناصر کو دنیا کے کسی بھی حصے میں تلاش کر کے نشانہ بنایا جائے گا۔ امریکی عسکری قیادت کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی اور امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر خطے میں امن و استحکام کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق شام میں امریکی فضائی حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ داعش اگرچہ کمزور ہو چکی ہے، تاہم وہ اب بھی خطے کے لیے خطرہ سمجھی جاتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکا اپنی فوجی حکمتِ عملی کے تحت داعش کے باقی ماندہ نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے پرعزم نظر آتا ہے۔

editor

Related Articles