امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری پُرتشدد احتجاج کے حوالے سے ٹروتھ پر ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران ایک ایسی سمت دیکھ رہا ہے جسے وہ ماضی میں کبھی نہیں دیکھ سکا اور وہ سمت آزادی کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں واضح کیا کہ امریکا ایران میں احتجاج کرنے والے عوام کی مدد کے لیے تیار ہے اور ان کی جدوجہد پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام برسوں سے سخت حالات اور حکومتی دباؤ کا سامنا کرتے رہے ہیں، تاہم اب صورتحال بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے بعض شہروں میں عوامی غصہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور ریاستی کنٹرول کو چیلنج کر رہے ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر نے کہا تھا کہ ایرانی حکومت نے طویل عرصے تک اپنے شہریوں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیے رکھا اور اب اسے اس طرزِ عمل کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ٹرمپ نے ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں احتجاج کے دوران لوگوں کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت پر غور کرے گا۔ تاہم انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ اس مداخلت کا مطلب ایران میں فوجی کارروائی یا امریکی فوج کی تعیناتی ہرگز نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش نہیں رہ سکتا۔دوسری جانب ایران میں احتجاجی مظاہرے مسلسل تیرہویں روز میں داخل ہو چکے ہیں۔ مختلف شہروں میں ہونے والے پُرتشدد واقعات کے نتیجے میں اب تک 15 سکیورٹی اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق سکیورٹی فورسز نے تہران کے قریب ایک قصبے سے 100 مسلح افراد کو گرفتار کیا ہے، جن پر بدامنی پھیلانے کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں اب تک ڈھائی ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔