برطانوی میڈیا نے ایک چونکا دینے والا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی تیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ کو کہا ہے کہ وہ گرین لینڈ کے خلاف عسکری کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کرے اور ایک جامع منصوبہ تیار کرے، تاہم امریکی عسکری قیادت کے اعلیٰ حلقوں میں اس اقدام پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اس مجوزہ منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ گرین لینڈ پر کسی بھی قسم کا فوجی حملہ بین الاقوامی قوانین کے منافی ہوگا۔
عسکری حکام کے مطابق نہ صرف یہ اقدام غیرقانونی تصور کیا جائے گا بلکہ امریکی کانگریس کی جانب سے بھی اس کی حمایت ملنے کے امکانات نہایت کم ہیں، جس سے امریکا کو اندرونی اور بیرونی سطح پر شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
برطانوی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ کے بعض قریبی مشیر، جن میں صدارتی مشیر اسٹیفن ملر بھی شامل ہیں، گرین لینڈ پر سخت مؤقف اختیار کرنے کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وینزویلا کے خلاف حالیہ کامیاب امریکی کارروائیوں کے بعد اسٹیفن ملر اور ان جیسے دیگر حکام کا اعتماد مزید بڑھ گیا ہے، جس کے باعث وہ جارحانہ خارجہ پالیسی کی حمایت کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ پہلو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ ممکنہ طور پر امریکا کو درپیش معاشی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مڈٹرم انتخابات سے قبل ووٹرز کی توجہ کسی بڑے بین الاقوامی یا سیکیورٹی مسئلے کی طرف مبذول کرانا بھی ان کی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتا ہے، تاکہ اندرونی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
برطانوی میڈیا نے مزید خبردار کیا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے واقعی گرین لینڈ پر حملے کا فیصلہ کیا تو یہ برطانوی وزیراعظم کے ساتھ کھلا اختلاف ہوگا، کیونکہ گرین لینڈ ڈنمارک کے زیر انتظام خطہ ہے اور ڈنمارک نیٹو کا رکن ملک ہے۔ ایسی صورت میں نیٹو اتحاد کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور مغربی اتحاد میں دراڑیں پڑنے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بیان دیا تھا کہ امریکا کو گرین لینڈ کا مالک ہونا چاہیے تاکہ روس یا چین وہاں اپنا اثر و رسوخ قائم نہ کر سکیں۔ ان کے اس بیان کے بعد عالمی سطح پر بحث شروع ہو گئی ہے اور برطانوی میڈیا کی تازہ رپورٹ نے اس معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔