تنظیم تعاونِ اسلامی (او آئی سی) کی کونسل آف فارن منسٹرز کا 22 واں غیر معمولی اجلاس جدہ میں منعقد ہوا، جس میں 2 قراردادیں منظور کی گئیں، پہلی قرارداد میں اسرائیل کی جانب سے نام نہاد ’سومالی لینڈ‘ کو ایک آزاد ریاست تسلیم کرنے کی مذمت کی گئی، جبکہ دوسری قرارداد میں فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی مسلسل جارحیت، الحاق کے منصوبوں اور ان کی زمینوں سے بے دخلی کی کوششوں پر توجہ دی گئی۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ جدہ پہنچنے پر ان کا استقبال او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طٰہ اور او آئی سی میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر فواد شیرون نے کیا۔
یہ غیر معمولی اجلاس اسرائیل کے حالیہ اعلان کے بعد طلب کیا گیا تھا، جس میں اس نے سومالی لینڈ کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔ سومالی لینڈ کے صدر عبد الرحمٰن محمد عبداللہ نے کہا ہے کہ ان کی ریاست ’ابراہیم معاہدے‘ میں شامل ہوگی، جبکہ بعد ازاں اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے سومالی لینڈ کا دورہ کیا، جسے صومالیہ نے ’غیر مجاز دراندازی‘ قرار دیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طٰہ نے کہا کہ یہ اجلاس ایک ’نہایت نازک اور حساس وقت‘ میں منعقد ہو رہا ہے، جب وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی خودمختاری سے متعلق ’سنگین پیش رفت‘ سامنے آئی ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے سومالی لینڈ کے خطے کو تسلیم کرنے کے اعلان کو ’ایک خطرناک نظیر‘ قرار دیا، جو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔
سیکریٹری جنرل نے بتایا کہ موجودہ اجلاس او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ایک غیر معمولی اجلاس کا تسلسل ہے، جو یکم جنوری کو تنظیم کے جنرل سیکریٹریٹ کے ہیڈکوارٹر میں مستقل نمائندوں کی سطح پر منعقد ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال رکن ممالک کی مشترکہ تشویش اور اس امر کی اجتماعی آگاہی کی عکاس ہے کہ وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی حمایت کے لیے ایک ’متحد، واضح اور مضبوط اسلامی مؤقف‘ اپنایا جائے، جو او آئی سی چارٹر، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو۔
فلسطین کی صورتحال
اپنے خطاب میں سیکریٹری جنرل نے فلسطین کی صورتحال پر بھی بات کی اور اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل، بطور قابض طاقت، کو جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل کے لیے مجبور کیا جائے۔ انہوں نے اسرائیلی جارحیت کے مکمل اور مستقل خاتمے، غزہ کی پٹی سے مکمل انخلا، فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی روک تھام اور بے گھر افراد کی اپنے گھروں کو واپسی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
کونسل آف فارن منسٹرز کے اجلاس سے قبل سینئر حکام کی سطح پر ایک تیاری اجلاس بھی منعقد ہوا۔
نئی چانسری عمارت کا افتتاح
اس سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جدہ میں قونصل جنرل آف پاکستان کی نئی چانسری عمارت کا افتتاح کیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، تقریب میں سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق، سعودی معززین، قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی، پاکستانی کمیونٹی کے نمایاں افراد اور قونصل خانے کے حکام نے شرکت کی۔
افتتاحی تقریب کے دوران نئی چانسری کے احاطے میں پاکستانی پرچم لہرایا گیا، شجرکاری کی گئی، فیتہ کاٹا گیا، یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی گئی اور پاکستان و سعودی عرب کی ترقی و خوشحالی کے لیے دعائیں کی گئیں۔ اس موقع پر منصوبے کی نمایاں خصوصیات پر مشتمل ایک مختصر ویڈیو رپورٹ بھی پیش کی گئی۔