’ونڈر بوائے‘ کا مطلب اقتدار کی تبدیلی نہیں، بعض اوقات خبر اس لیے دی جاتی ہے کہ ایسا نہ ہو، سہیل وڑائچ

’ونڈر بوائے‘ کا مطلب اقتدار کی تبدیلی نہیں، بعض اوقات خبر اس لیے دی جاتی ہے کہ ایسا نہ ہو، سہیل وڑائچ

معروف کالم نگار اور سینیئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ صحافت میں خبر دینے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ معاملہ لازمی طور پر وقوع پذیر ہونے جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات خبر اس نیت سے بھی دی جاتی ہے کہ ایسی کسی پیش رفت کو پیشگی روکا جا سکے۔

سینیئر صحافی منصور علی خان کے ساتھ ایک وی لاگ میں اپنے حالیہ کالم میں استعمال ہونے والے لفظ ‘ونڈر بوائے’ سے متعلق سوال کے جواب میں  سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ہر صحافی کے اپنے ذرائع ہوتے ہیں اور بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی گفتگو بھی اکثر صحافیوں تک پہنچ جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ونڈر بوائے کی تلاش یا اختلافات کی افواہیں بے بنیاد ہیں، اجمل جامی

انہوں نے کہا کہ صحافت میں 3 سے 4 دہائیوں کا تجربہ یہ سکھاتا ہے کہ کس طرح خود کو محفوظ رکھتے ہوئے بات بھی کرنی ہے اور پیغام بھی پہنچانا ہے۔ ان کے مطابق کسی خبر کے پس منظر میں نیت کو سمجھنا بھی ایک فن ہے، جس کے لیے مسلسل ریاضت اور تجربہ درکار ہوتا ہے۔

سہیل وڑائچ نے واضح کیا کہ ‘ونڈر بوائے’ کے لفظ سے یہ نتیجہ اخذ کر لینا کہ حکومت فوری طور پر جانے والی ہے، درست تاثر نہیں تھا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بعض حلقوں میں اس خواہش کا اظہار ضرور موجود ہے کہ ایک مختلف نوعیت کا نظام، کابینہ یا سیٹ اپ سامنے آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک حد تک یہ بات درست ہو سکتی ہے کہ ایسی آرا زیرِ بحث آتی ہیں، مگر یہ الگ معاملہ ہے کہ آیا ایسی رائے قبول کی جائے گی یا اس پر عملدرآمد ہو گا یا نہیں۔ سہیل وڑائچ کے مطابق صحافی کا بنیادی کردار یہی ہوتا ہے کہ وہ زیرِ بحث خیالات کو سامنے لا کر رائے عامہ ہموار کرے تاکہ مدعا عوام اور فیصلہ سازوں کے سامنے رکھا جا سکے۔

وی لاگ کے دوران سہیل وڑائچ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر کبھی کوئی ‘ونڈر بوائے’ سامنے آتا ہے تو وہ مکمل طور پر غیر سیاسی شخصیت نہیں ہو گا۔ ان کے بقول پاکستان جیسے سیاسی ماحول میں کسی بھی بڑے کردار کا سیاست سے بالکل الگ ہونا ممکن نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:حکومت کو چھ ماہ کی مہلت اور ونڈر بوائے سے متعلق قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں، حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں: حسن ایوب

واضح رہے کہ سہیل وڑائچ کے یہ خیالات اس بحث کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں کہ صحافتی کالم اور خبری تجزیے کس طرح بعض اوقات محض اطلاع نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی مکالمے کا حصہ ہوتے ہیں، ان کے کالم میں ’ونڈربوائے‘ کی تلاش سے ملک میں ایک نئی بحث نے جنہم لیا، جس کی ہر سطح پر تردید کی گئی۔

مختلف تجزیہ کاروں نے سہیل وڑائچ کے ان خیالات کو ذاتی رائے سے تعبیر کیا اور کہا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان انتہائی گہرے ورکنگ ریلیشن ہیں، ملک کی معیشت درست سمت گامزن ہے، سفارتی تعلقات میں اضافہ ہوا ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *