عدالتی حکم پر 9مئی کے پرتشدد واقعات سے متعلق ویڈیوز کی فرانزک تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے بعد خیبر پختونخوا کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔
فرانزک رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی 9 مئی کو پاکستان تحریک انصاف ‘پی ٹی آئی’ کے احتجاج کے دوران ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ، قومی املاک کو نقصان پہنچانے اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں ملوث پائے گئے ہیں۔
فرانزک رپورٹ کے مطابق پشاور پولیس کی جانب سے فراہم کردہ ویڈیوز میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے چہرے کی واضح شناخت کر لی گئی ہے، جس کے بعد قانونی اور آئینی تقاضوں کے تحت ان کی وزارتِ اعلیٰ پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ رپورٹ میں ویژول شواہد کی بنیاد پر ان کی موجودگی اور شناخت کی تصدیق کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
قانونی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عدالت نے 9 مئی کے مقدمات کا فیصلہ اس فرانزک رپورٹ کی بنیاد پر سنایا تو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی نااہلی تقریباً یقینی ہو جائے گی۔ آئین اور متعلقہ قوانین کے تحت قومی املاک کو نقصان پہنچانے اور پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ثابت ہونے کی صورت میں کسی بھی عوامی عہدے دار کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس ممکنہ فیصلے کی صورت میں خیبر پختونخوا میں ایک نیا سیاسی بحران جنم لے سکتا ہے اور صوبے میں نئے وزیراعلیٰ کی تلاش کا عمل شروع ہو جائے گا۔ اس صورتحال سے نہ صرف حکومتی اتحاد بلکہ صوبائی انتظامی امور بھی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کی ویڈیوز کی فرانزک تصدیق کے بعد سہیل آفریدی کے ملوث قرار دیے جانے سے ان کے سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر نااہلی کی تلوار واضح طور پر لٹکتی دکھائی دے رہی ہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ بھی بحث جاری ہے کہ آنے والے دنوں میں عدالتی کارروائی اور ممکنہ فیصلے خیبر پختونخوا کی سیاست کا رخ یکسر تبدیل کر سکتے ہیں، جس کے اثرات صوبے سے نکل کر قومی سیاست تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔