حکومت نے توانائی کے شعبے میں پیشگی حکمت عملی اپناتے ہوئے ایل این جی کی درآمد کے لیے بروقت اقدامات مکمل کر لیے ہیں جس سے آئندہ ہفتوں میں ممکنہ گیس بحران سے بچاؤ کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان ایل این جی لمٹیڈ نے اپریل کے آخری دنوں اور مئی کے ابتدائی ہفتوں کے لیے ایل این جی کے اسپاٹ کارگوز کی بروقت بڈنگ مکمل کر لی ہے تاکہ ملک میں گیس کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
تفصیلات کے مطابق 27 تا 30 اپریل اور یکم تا 7 مئی کے لیے مختلف بین الاقوامی کمپنیوں نے بولیاں جمع کرائیں جبکہ 8 تا 14 مئی کے عرصے کے لیے بھی پیشکشیں موصول ہوئیں۔ عالمی کمپنیوں کی جانب سے مسابقتی نرخوں پر بولیاں دینا حکومتی حکمت عملی کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
موصولہ بولیوں میں ٹوٹل انرجیز نے 27 تا 30 اپریل کے کارگو کے لیے 18.88 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی کم ترین بولی دی جبکہ ویٹل نے یکم تا 7 مئی کے لیے 18.54 ڈالر کی پیشکش کی۔ اسی طرح او کیو ٹریڈنگ نے 8 تا 14 مئی کے عرصے کے لیے 17.99 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی سب سے کم بولی جمع کرائی۔
حکام کا کہنا ہے کہ بروقت بڈنگ کے عمل سے نہ صرف ایل این جی کی دستیابی یقینی بنائی گئی ہے بلکہ مسابقتی نرخوں کے باعث قومی خزانے پر اضافی بوجھ بھی کم رکھنے میں مدد ملے گی۔
پیشگی منصوبہ بندی کے تحت اسپاٹ کارگوز کا انتظام کرنا ایک مثبت پیش رفت ہے جس سے موسمِ گرما میں گیس کی بڑھتی طلب کو پورا کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچنے میں مدد ملے گی۔
حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک کی توانائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ صارفین کو بلا تعطل گیس کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔