امریکی ٹی وی اسٹار اور کاروباری شخصیت کم کارڈیشین نے اپنی روزمرہ صحت سے متعلق روٹین کا ایسا انکشاف کیا ہے جس نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کم کارڈیشین نے بتایا کہ وہ روزانہ مجموعی طور پر 35 غذائی سپلیمنٹس استعمال کرتی ہیں، جنہیں دن میں تین مختلف اوقات میں تقسیم کر کے لیا جاتا ہے۔
کم کارڈیشین کے مطابق اتنی زیادہ تعداد میں سپلیمنٹس لینے کے باعث انہیں بعض اوقات ’پِل فیٹیگ‘ یعنی ذہنی اور جسمانی تھکن کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل انہوں نے فِش آئل کیپسول لینا بند کر دیے تھے، تاہم بعد میں خون کے ٹیسٹ میں کمی سامنے آنے پر دوبارہ استعمال شروع کرنا پڑا۔
کم کارڈیشین کے اس بیان کے بعد طبی ماہرین نے بھی خبردار کرنا شروع کر دیا ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق ضرورت سے زیادہ غذائی سپلیمنٹس کا استعمال جسم کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے جگر، گردوں اور نظامِ ہاضمہ پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خاص طور پر وٹامن اے، ڈی، ای اور کے اگر حد سے زیادہ مقدار میں استعمال کیے جائیں تو یہ جسم میں جمع ہو کر زہریلے اثرات پیدا کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ چکنائی میں حل ہونے والے وٹامنز ہیں۔
اسی طرح آئرن اور دیگر معدنیات کی زیادتی معدے کی خرابی، تیزابیت اور جگر کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ماہرین نے مزید خبردار کیا کہ بعض سپلیمنٹس مختلف ادویات کے اثرات کو بھی متاثر کرتے ہیں، جس سے فالج سمیت دیگر طبی پیچیدگیوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق آج کل پروسیسڈ غذا اور اضافی سپلیمنٹس کا ملاپ جسم میں غذائی اجزاء کی غیر ضروری زیادتی پیدا کر رہا ہے، اس لیے کسی بھی سپلیمنٹ کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں کرنا چاہیے۔
ماہرین نے مشورہ دیا کہ لوگ وقتاً فوقتاً اپنے طبی ٹیسٹ اور معائنے کرواتے رہیں تاکہ غیر ضروری یا نقصان دہ سپلیمنٹس کے استعمال سے بچا جا سکے۔