وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کیساتھ اختلافات پرشیخ وقاص اکرم بول پڑے ، سب کچھ کہہ ڈالا

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کیساتھ اختلافات پرشیخ وقاص اکرم بول پڑے ، سب کچھ کہہ ڈالا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اپنے اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں کے درمیان کوئی اختلافات موجود نہیں البتہ بعض معاملات میں غلط فہمی پیدا ہوگئی تھی۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ میڈیا میں ان کے اور وزیراعلیٰ کے درمیان اختلافات سے متعلق جو تاثر دیا جا رہا ہے وہ درست نہیں۔ ان کے بقول پارٹی کے اندر بعض معاملات پر رابطے اور مشاورت کے فقدان کے باعث غلط فہمی پیدا ہوئی تاہم اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ قیادت کے درمیان کوئی سیاسی یا تنظیمی اختلاف موجود ہے۔

انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کے اعلان کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس احتجاجی پروگرام کے بارے میں پیشگی آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے احتجاج کا اعلان کیا لیکن اس سلسلے میں پارٹی کی سطح پر باقاعدہ مشاورت نہیں ہوئی اور نہ ہی انہیں اس فیصلے سے متعلق اعتماد میں لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:علیمہ خان کو بڑی مایوسی،کے پی کے حکومت نے اہم ترین ہدایات نظر انداز کر دیں

شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ جب ایک ٹی وی پروگرام کے دوران اینکر نے ان سے احتجاج کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے وہی جواب دیا جو ان کے علم میں تھا۔ ان کے مطابق چونکہ انہیں احتجاجی منصوبے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں، اس لیے انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ انہیں اس حوالے سے علم نہیں۔

مرکزی سیکریٹری اطلاعات نے مزید بتایا کہ احتجاج کے اعلان کے بعد بھی دو روز تک پارٹی کے اندر اس معاملے پر کوئی باضابطہ مشاورت نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے بعض حلقوں میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اور معاملے کو اختلافات کا رنگ دے دیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے خود اس منصب کے لیے منتخب کیا تھا اور پارٹی کی پوری قیادت ان پر اعتماد کرتی ہے۔ شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ وہ اور دیگر رہنما وزیراعلیٰ کو بھرپور تعاون فراہم کریں گے تاکہ صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کر سکے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق شیخ وقاص اکرم کے اس بیان کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات سے متعلق قیاس آرائیوں میں کمی آنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اس وقت سیاسی اور تنظیمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے داخلی اتحاد پر زور دے رہی ہے، جس کے باعث قیادت کی جانب سے یکجہتی کا پیغام دینا اہم سمجھا جا رہا ہے۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی مرکزی اور صوبائی قیادت مستقبل میں اہم سیاسی فیصلوں اور عوامی سرگرمیوں کے حوالے سے باہمی مشاورت کے عمل کو مزید مؤثر بنانے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ اس نوعیت کی غلط فہمیاں دوبارہ پیدا نہ ہوں۔

editor

Related Articles