کراچی کے مصروف تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زیادہ زخمی ہو گئے، جن میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ 6 خواتین لاپتا ہیں، آگ تاحال مکمل طور پر قابو میں نہیں آ سکی جبکہ درجنوں افراد کے عمارت میں پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
آگ تیسرے درجے کی، عمارت ساختی طور پر کمزور
ریسکیو اور فائر بریگیڈ حکام کے مطابق گل پلازہ میں لگنے والی آگ کو تیسرے درجے کی آگ قرار دیا گیا ہے، جو گراؤنڈ فلور سے شروع ہو کر تیسری منزل تک پھیل چکی ہے۔ چیف فائر آفیسر کا کہنا ہے کہ گراؤنڈ فلور پر موجود تمام دکانیں اور گودام مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں جبکہ شدید حرارت اور دھوئیں کے باعث عمارت کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد کی موت عمارت کے اندر بھاری دھوئیں کے باعث دم گھٹنے سے ہوئی۔ جاں بحق افراد میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے۔ ہلاک شدگان کی شناخت آصف، فراز اور عامر کے ناموں سے ہو چکی ہے جبکہ دو افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ بعد ازاں ملبے سے ایک اور لاش بھی نکال لی گئی۔
80 سے 100 افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ
گل پلازہ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عمارت کے اندر اب بھی 80 سے 100 افراد موجود ہو سکتے ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں سنورکلز اور دیگر آلات کی مدد سے پھنسے افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم شدید دھواں اور آگ کی شدت رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
زخمیوں کو سول اسپتال منتقل، کئی کی حالت نازک
ریسکیو حکام کے مطابق 20 سے زائد زخمیوں کو کراچی کے سول ہسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے بعض کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسچارج بھی کر دیا گیا ہے، تاہم کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
پلازہ میں کیمیکل، کپڑا اور پلاسٹک موجود
سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید کے مطابق گل پلازہ میں کپڑے، پلاسٹک اور کیمیکل کا بڑا ذخیرہ موجود تھا جس کے باعث آگ تیزی سے پھیلی۔ انہوں نے بتایا کہ پلازے کے 7 داخلی دروازوں میں سے صرف 2 کھلے تھے، جو سنگین غفلت ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
فائر فائٹرز کو داخلے میں مشکلات، پانی کی فراہمی متاثر
سعدیہ جاوید نے بتایا کہ فائر فائٹرز کو پلازے میں داخل ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایم اے جناح روڈ پر گرین لائن منصوبے کی تعمیر کے باعث پانی کے ٹینکرز کو دور سے آنا پڑ رہا ہے، تاہم اس وقت تین ہائیڈرنٹس کے ذریعے پانی کی فراہمی جاری ہے اور آگ پر تقریباً 40 فیصد قابو پا لیا گیا ہے۔
مزید 5 سے 6 گھنٹے درکار ہوں گے، چیف فائر آفیسر
چیف فائر آفیسر کے مطابق آگ پر مکمل قابو پانے کے لیے مزید 5 سے 6 گھنٹے درکار ہوں گے۔ وفاقی و صوبائی ادارے، پاک بحریہ، کے ایم سی، ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ مشترکہ طور پر آپریشن میں مصروف ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور ریسکیو و ریلیف آپریشن تیز کرنے کا حکم دیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔
سندھ حکومت کی انکوائری، فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کمشنر کراچی کو واقعے کی فوری انکوائری کا حکم دیتے ہوئے آگ لگنے کی وجوہات پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ گل پلازہ میں فائر سیفٹی انتظامات کا مکمل جائزہ لیا جائے اور اگر کسی قسم کی غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کراچی کی تمام کمرشل عمارتوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔
6 خواتین لاپتہ، شادی کی خریداری کے لیے گئی تھیں
خاندان کے افراد کے مطابق شادی کی خریداری کے لیے گل پلازہ جانے والی 6 خواتین تاحال لاپتہ ہیں اور ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ واقعے کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
گل پلازہ میں 2 ہزار سے زیادہ دکانیں
واضح رہے کہ گل پلازہ کراچی کے بڑے شاپنگ سینٹرز میں شمار ہوتا ہے جہاں 2 ہزار سے زائد دکانیں قائم ہیں۔ واقعے نے شہر میں کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مزید 3 افراد کے جاں بحق اور 16 زخمیوں کی تفصل
کراچی کے صدر گل پلازہ کے قریب عمارت میں شدید آتشزدگی کے باعث مزید 3 افراد دم گھٹنے سے جاں بحق اور 16 افراد زخمی ہو گئے، چھیپا فاؤنڈیشن ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ جاں بحق اور زخمیوں کو فوری طور پر چھیپا ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
جاں بحق افراد کی شناخت آصف ولد یونس عمر 40 سال، فراز ولد ابرار عمر 55 سال اور محمد عامر عمر 30 سال کے طور پر کی گئی ہے۔ زخمی ہونے والوں میں حسیب ولد وسیم 25 سال، نامعلوم 45 سال، وسیم ولد سلیم 20 سال، دانیال ولد سراج 20 سال، صادق 35 سال، نامعلوم 45 سال، حمزہ ولد محمد علی 22 سال، رحیم ولد گل محمد 25 سال، فہد ولد محمد ایوب 20 سال، جواد ولد جاوید 18 سال، ایان 25 سال، عبداللہ ولد ظہیر 20 سال، عثمان ولد اضغر علی 20 سال، فہد ولد حنیف 47 سال اور زین ولد عبداللہ 23 سال شامل ہیں۔
چھیپا حکام نے بتایا کہ زخمیوں کو سول ہسپتال منتقل کر کے فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ آگ لگنے کی وجوہات معلوم کی جا سکیں اور مستقبل میں حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔