کراچی کے تجارتی علاقے گل پلازہ میں شدید آتشزدگی کے باعث ہنگامی ریسکیو آپریشن جاری ہے، حکام کے مطابق اب تک 5 افراد جاں بحق 20سے زائد زخمی ہیں جبکہ 150 سے زائد افراد ریسکیو ہو چکے ہیں ،عمارت کے گرنے کا خدشہ ہے۔
کراچی ، گل پلازہ میں لگنے والی آگ پرکئی گھنٹے گزرنے کے بعد بھی قابو نہ پایا جاسکا،فائر بریگیڈ، ،اور دیگر ریسکیو ٹیمیں آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف میں لیکن کئے گھنٹوں گزرنے کے بعد تاحال آگ پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔،آگ کے باعث گرائونڈ فلور کی تمام دکانیں جل کر خاکستر ہوچکی ہیں
پاکستان رینجرز کے جوان ،پاکستان نیوی کی ٹیمیں بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور واٹر باؤزر کے ذریعے آگ پر قابو پانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں فائر بریگیڈ حکام نے آگ کو تیسرے درجے کی آگ قرار دیاہے۔
بتایا گیا ہے کہ تنگ راستوں اور عمارت میں موجود آتشگیر سامان کی وجہ سے آگ کی شدت میں اضافہ ہوا ہے،فائر بریگیڈ کی تین گاڑیاں اور بیس اسنارکل اس وقت آگ بجھانے میں مصروف ہیں، جبکہ شہر بھر سے اضافی فائر فائٹنگ آلات طلب کیے گئے ہیں۔
گورنر سندھ نے کہا کہ واٹر باؤزر بھیجنے پر پاکستان نیوی کا مشکور ہوں، پولیس حکام کے مطابق گل پلازہ میں چار فلورز اور ہزار سے زائد دکانیں ہیں پولیس کی نفری ریسکیو ٹیم کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہے۔ ایم اے جناح روڈ پر موجود شہریوں کو حفاظتی اقدامات کے طور پر دور کر دیا گیا ہے۔
امدادی کارروائی کے دوران گل پلازہ سے نکالے جانے والے دو افراد سیڑھی سے اترنے کی کوشش کے دوران زخمی ہوگئے، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے اور تمام ضروری وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ واقعے کی جگہ پانی کی کمی نہ ہو اور جلد از جلد آگ پر قابو پایا جائے۔
گل پلازہ میں شدید آتشزدگی کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جاں بحق افراد کی تعداد 5ہوگئی ہے جبکہ تیس سے زائد زخمی بتائے جارہے ہیں ،صدر گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن تنویر قاسم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آبدیدہ ہو کر کہا کہ خدارا عمارت میں موجود دکانداروں کی جانیں بچائیں ۔
تنویر قاسم نے بتایا کہ آگ میں 80 سے 100 کے قریب افراد پھنسے ہوئے ہیں اور مارکیٹ میں موجود لوگ فون کال کے ذریعے مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فائربریگیڈ کے پاس پانی اور ڈیزل بار بار ختم ہو رہا ہے اور امدادی عمل میں شدید رکاوٹیں ہیں۔
صدر تاجر ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ دکاندار پہلے ہی مالی طور پر تباہ و برباد ہو چکے ہیں اور اب سب سے اہم مسئلہ ان کے جان و مال کی حفاظت ہے۔
انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ اندر موجود افراد کو فوری اور بحفاظت نکالا جائے۔ تنویر قاسم نے مزید کہا کہ 200 سے 250 افراد کو تاجر خود ریسکیو کر چکے ہیں۔