فافن کی حکومت سندھ اور اداروں سے متعلق اہم رپورٹ جاری، بڑی خامیوں کی نشاندہی

فافن کی حکومت سندھ اور اداروں سے متعلق اہم رپورٹ جاری، بڑی خامیوں کی نشاندہی

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی رپورٹ کے مطابق سندھ کے سرکاری اداروں میں شفافیت کی صورتحال تشویشناک حد تک کمزور ہے، جہاں عوامی معلومات کا بڑا حصہ اب بھی عوام کی دسترس سے باہر ہے۔

رپورٹ کے مطابق صوبائی سرکاری محکموں نے صرف 54 فیصد وہ معلومات فراہم کی ہیں جو عوام کے لیے جاری کرنا ضروری تھیں، جبکہ تقریباً نصف معلومات تاحال مخفی ہیں۔ فافن نے سندھ کے 61 سرکاری اداروں کا جائزہ لیا، جن میں 36 سیکریٹریٹ محکمے اور 25 ذیلی ادارے شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں:فافن کی ضمنی انتخابات پر رپورٹ جاری: ٹرن آؤٹ انتہائی کم، مہم کی پابندیوں کی خلاف ورزیاں نمایاں

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طرزِ حکمرانی سے متعلق معلومات کی فراہمی میں نمایاں کمی پائی جاتی ہے۔ صرف 15 فیصد اداروں نے فیصلہ سازی کے عمل سے متعلق تفصیلات فراہم کیں، جبکہ مجموعی طور پر اس شعبے میں مطلوبہ معلومات کا صرف 10 فیصد ہی جاری کیا گیا۔ اگرچہ 54 فیصد محکموں نے بجٹ سے متعلق مکمل یا جزوی معلومات شائع کیں، تاہم سبسڈی اور مراعاتی پروگراموں سے متعلق معلومات انتہائی محدود رہیں۔ صرف پانچ فیصد اداروں نے اس حوالے سے تفصیلات فراہم کیں۔

مجموعی طور پر کمزور کارکردگی کے باوجود چند ادارے نسبتاً بہتر شفافیت کے حامل پائے گئے۔ سندھ فنانس ڈیپارٹمنٹ، انویسٹمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کو سب سے زیادہ شفاف اداروں میں شامل کیا گیا۔ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور ہیومن رائٹس ڈیپارٹمنٹ نے 73 فیصد معلومات عوام کے سامنے رکھیں، جبکہ بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے 67 فیصد معلومات شائع کیں۔

مزید پڑھیں:پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں کی ویب سائٹس غیر فعال: فافن رپورٹ

رپورٹ میں عوامی معلومات کے قوانین پر عملدرآمد کی کمزوری کی بھی نشاندہی کی گئی۔ صرف 14 فیصد اداروں نے پبلک انفارمیشن افسران کے رابطہ کی تفصیلات شائع کیں، جبکہ محض چھ فیصد اداروں نے معلومات کی درخواستوں پر کی گئی کارروائیوں کا ریکارڈ عوامی کیا۔

فافن نے زور دیا کہ عوام کو معلومات تک رسائی بہتر بنانا بہتر طرزِ حکمرانی، احتساب اور عوامی اعتماد کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ تنظیم کے مطابق شفافیت میں اضافہ جمہوری عمل کو مضبوط بنانے اور سندھ کے سرکاری اداروں پر عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *