کراچی، گل پلازہ میں آتشزدگی سے تاجروں کا کتنا نقصان ہوا، تاجر رہنما نے تفصیل بتادی

کراچی، گل پلازہ میں آتشزدگی سے تاجروں کا کتنا نقصان ہوا، تاجر رہنما نے تفصیل بتادی

گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کو 2 دن سے زیادہ وقت گزر چکا ہے، تاہم تاحال ریسکیو اور سرچ آپریشن مکمل نہیں ہو سکا، آگ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا ہے جبکہ قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔

تاجر رہنما عتیق میر کا کہنا ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق ہر دکان میں 25 سے 30 لاکھ روپے مالیت کا سامان موجود تھا، مجموعی طور پر 3 ارب روپے سے زیادہ کا سامان جل کر بھسم ہو چکا ہے، انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر تاجروں نے عید کی تیاری کے لیے بھاری مقدار میں سامان خریدا تھا جو مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ میں آپریشن جاری،پاک فوج کی جانب سے بھر پور مدد فراہم کی جارہی ہے

عتیق میر نے کہا کہ ’یہ صرف تاجروں کا نہیں بلکہ پورے شہر کی معیشت کا نقصان ہے، حکومت فوری طور پر متاثرہ تاجروں کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کرے‘۔

ایک اور متاثرہ تاجر مزمل نے بتایا کہ ’اس سانحے میں لوگوں کا کروڑوں اربوں روپے کا مال ضائع ہو چکا ہے، کئی خاندان سڑکوں پر آ گئے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ وہ متاثرین کا ساتھ دے اور نقصانات کا ازالہ کرے’۔

ریسکیو حکام کے مطابق آگ پر قابو پانے کے باوجود عمارت کے اندر شدید دھواں اور ملبہ موجود ہے جس کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، حادثے میں اب تک 14 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ متعدد افراد کے عمارت میں پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:رینجرز کے جوان کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر قابو پانے اور متاثرین کو بچانے کے لیے آپریشن میں مصروف

دوسری جانب وزیراعظم نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ کیا اور انہیں فوری اور مؤثر امدادی اقدامات کی ہدایت کی، وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر تمام متعلقہ ادارے موجود ہیں اور ریسکیو سرگرمیاں بلا تعطل جاری ہیں۔

متاثرہ تاجروں اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آگ لگنے کی وجوہات کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے سخت حفاظتی اقدامات نافذ کیے جائیں۔

Related Articles