ایڈیشنل آئی جی پنجاب ٹریفک پولیس وقاص نذیر نے انکشاف کیا ہے کہ روزانہ پنجاب میں پچاس ہزار کے قریب چالان ہوتے ہیں جو ایک ارب روپے کے بنتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمارا قطعا مقصد چالان کرنا نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی ہمارے کسی وارڈنز کو ٹارگٹڈ چالان کا کہا جاتا ہے ہم اپنی کارکردگی کا جانچنے کیلئے یہ دیکھتے ہیں کہ سر پر چوٹ لگنے سے ہونیوالے واقعات میں کمی ہوئی یا نہیں،ہیلمٹ نہ پہننے سےلوگوں نے سٹرکوں کا رُخ کیا ہے یا نہیں۔
سٹرکوں میں حادثات میں کمی ہوئی یا نہیں اور پھر اس کے علاوہ ہم یہ بھی چیک کرتے ہیں کہ کنجکشن پوائنٹس کتنے ہیں جن کو ہٹانے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانگی متاثر ہوتی ہے ۔
مزید پڑھیں: ٹریفک پولیس کا بڑا اقدام، چالان، ٹوکن ٹیکس اور تجاوزات کے لیے ایپ تیار
اُنہوں نے بات کوآگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی ٹریفک کا بجٹ ساڑھے پانچ کھرب ہے جو ہمیں سرکار ہی دیتی ہے۔ پروگرام کے دوسرے حصے میں بات کرتے ہوئے وقاص نذیر نے بتایا کہ پنجاب سیف کے کیمرے سے ہماری کارکردگی بہت زیادہ امپروو ہوئی ہے اور کیمروں کی مدد سے وارڈن کو بھی آسانی ہوئی ہے۔
دوسرا یہ کہ وارڈن کبھی تھک کر بیٹھ سکتا ہے ،آرام کر سکتا ہے ،اُس کی نسبت کیمرہ نہیں تھکتا پھر ہمیں ویڈیو بھی مل جاتی ہے جس کے بعد کوئی شک نہیں رہتا کہ یہ جرم اس نے کیا ہے کیونکہ آپ کے پاس ثبو ت آجاتا ہے اور پھر سب سے زیادہ خاص بات وہ یہ کہ فیوچر کوٹیکنالوجی ٹریفک میں بہت تیزی سے لارہے ہیں جس کا ہمیں بہت فائد ہ ہو رہا ہے ۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اُنہوں نے کہا ہم اے آئی کے ذریعے سگنلز کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں جس سے ہمیں پتہ چل جائے گا کہ کہاں پر ٹریفک جام ہے اور کہاں پر نہیں اور جہاں پر ٹریفک کم ہو گی وہ سگنل خود بخود ہی ٹریفک کو اُس طرف ڈائیورٹ کر دے گا اور اس سسٹم کو ہم بہت پنجاب کے تمام شہروں میں لاگو کر دینگے ۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بھارتی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ سمیت 49 دہشتگرد گرفتار
اسی طرح اے آئی کو ہم ڈرائیونگ ٹیسٹ کیلئے استعمال کر رہے ہیں جس سے اے آئی ہمیں خود بتائے گی کہ اس بندے کا ٹیسٹ ہے اور اس کو لائسنس ملنا چاہیے یا نہیں اور اس میں شفافیت بھی بہت ہوگی ۔
پروگرام میں ٹریفک اشاروں پر کھڑے فقیروں کے حوالے سے پوچھا گیا کہ ان کے خلاف کارروائیاں کیوں نہیں ہوتیں جس کے جواب وقاص نذیر نے کہا یہ ہماری کام نہیں ہے لیکن پھر وارڈنز ان کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیتے ہیں وہ پھر اپنی ضمانتیں کرواکر چھوٹ جاتے ہیں پھر کسی دوسرے سگنلز پر کھڑے ہوکر مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمیں ملکر ان کے خلاف کام کرنے کی ضرورت ہے ۔
لاہور میں ٹریفک کے معاملات کو درست سمت میں رکھنے کیلئے پوچھے گئے سوال کے کہ شہریوں میں ابھی لین اور لائن کی سمجھ نہیں ہے اور اُس کیلئے آپ لوگ کیا کر رہے ہیں جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آج کا لاہور اور پچاس سال پہلے کے لاہور میں زمین آسمان کا فرق ہے پچاس سال پہلے بارہ ہزار گاڑیاتھی لیکن آج پونے تین کروڑ گاڑیاں ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اُسی لاہور میں جہاں بڑی بڑی عمارتیں تو بن گئی ہے لیکن پارکنگ ، اور تجاوزات کی وجہ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے، لاہور شہر کو دوبارہ سے ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے پھر کہی جا کر یہ معاملہ حل ہوگا۔
مزید پڑھیں: شدید دھند سے پنجاب میں کئی شاہراہوں پر حد نگاہ صفر ،موٹرویز مختلف مقامات سے ٹریفک کیلئے بند

