کراچی کے مصروف تجارتی علاقے صدر میں واقع کوآپریٹو مارکیٹ کی ایک سات منزلہ عمارت میں اچانک آگ لگ گئی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ عمارت کی چوتھی منزل پر واقع ایک فلیٹ میں لگی، جس کے بعد دھواں دور دور تک پھیل گیا۔
فائر بریگیڈ حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی مختلف فائر اسٹیشنز سے فائر ٹینڈرز فوری طور پر روانہ کر دیے گئے ہیں۔ آگ پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹرز عمارت کے اندر اور باہر سے کارروائی کر رہے ہیں۔ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں مکمل حفاظتی اقدامات کے ساتھ آپریشن میں مصروف ہیں۔
یاد رہے کہ دو ہفتے کے دن رات کو گل پلازہ میں بھی آتشزدگی کا ہولنا ک واقعہ پیش آیا تھا جس میں متعدد قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا اور درجنوں لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں ،گل پلازہ آگ لگنے کے باعث راکھ کا ڈھیر بن گیا تھا ۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے مالی امداد کا اعلان بھی کیا تاہم تاجروں کی تمام جمع پونچی اس آگ کی نظر ہوگئی ہے اور تاحال بھی آگ سے لاپتہ ہونے والے لوگوں کے متعلق کوئی خبر نہیں ملی ہے ۔
کراچی میں حالیہ سانحہ گل پلازہ کے بعد شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور شہر کی فضا آج بھی سوگوار ہے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد عوام میں احتیاط کا رجحان واضح طور پر بڑھ گیا ہے اور اب جیسے ہی کسی علاقے میں آگ لگنے کی اطلاع ملتی ہے تو فوری طور پر فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کو طلب کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گل پلازہ جیسے دلخراش حادثے نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق گل پلازہ کی تباہ شدہ عمارت سے اب تک 27 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جن میں سے 20 کی شناخت مکمل ہو گئی ہے، جبکہ 83 افراد تاحال لاپتا رپورٹ کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملبے سے انسانی اعضا بھی ملے ہیں، جس سے سانحے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ناقابلِ شناخت لاشوں کو ایدھی سرد خانے منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ شناخت کا عمل مکمل کیا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے مطابق لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے سیمپلز اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، اور اب تک 18 متاثرہ خاندانوں نے اپنے ڈی این اے نمونے جمع کرا دیے ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں مسلسل ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں اور جدید آلات کی مدد سے لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔
گل پلازہ کے مقام پر درجنوں شہری اپنے پیاروں کی امید لیے اشکبار نظر آتے ہیں۔ کئی خاندان اب بھی کسی معجزے کے منتظر ہیں کہ شاید ان کا کوئی عزیز زندہ مل جائے۔ فضا سوگ، بے بسی اور انتظار سے بھری ہوئی ہے۔
دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے رات گئے گل پلازہ کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک تمام لاپتا افراد کا سراغ نہیں مل جاتا، ریسکیو آپریشن بند نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام متعلقہ ادارے موقع پر موجود ہیں اور شہریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔سانحہ گل پلازہ نے ایک بار پھر شہر میں عمارتوں کی حفاظت، فائر سیفٹی اور ریسکیو نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں، جن کا جواب دینا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔