رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے خواہاں تھے اور اس مقصد کے لیے اعلیٰ سطح پر رابطے بھی کیے گئے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ سفارتی سطح پر زیرِ غور رہا، تاہم بعض سیاسی عوامل کے باعث یہ کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ان کے پاس انتہائی قابلِ اعتماد ذرائع سے یہ معلومات آئی ہیں کہ امریکی صدر نے عمران خان کی رہائی کے لیے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے رابطہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی رہائی کے حوالے سے پسِ پردہ سفارتی سرگرمیاں جاری تھیں اور مختلف چینلز کے ذریعے پیش رفت ہو رہی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسی دوران قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے بعض اراکین کی جانب سے امریکا اور صدر ٹرمپ کے خلاف احتجاجی رویہ اختیار کیا گیا، جس سے نہ صرف سفارتی ماحول متاثر ہوا بلکہ یہ معاملہ آگے بڑھنے سے رک گیا۔ شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں ہونے والے احتجاج نے ان کوششوں کو نقصان پہنچایا جو عمران خان کی رہائی کے لیے کی جا رہی تھیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بظاہر امریکا سمیت کوئی بھی عالمی طاقت اس وقت کھل کر عمران خان کی رہائی کے لیے سرگرم نظر نہیں آتی، حالانکہ ان کی گرفتاری کو ڈھائی سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی کوئی مضبوط سفارتی دباؤ ہوتا تو اس کے اثرات عملی سطح پر نظر آتے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اس وقت پاکستان کی اندرونی سیاسی صورتحال کے بجائے اپنے معاشی، تجارتی اور علاقائی مفادات کو زیادہ ترجیح دے رہا ہے۔ ان کے خیال میں واشنگٹن کی توجہ خطے میں استحکام، سرمایہ کاری اور اقتصادی شراکت داری پر مرکوز ہے، جبکہ پاکستان کے داخلی سیاسی معاملات میں براہِ راست مداخلت سے گریز کیا جا رہا ہے۔