متحدہ عرب امارات ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے والا پہلا مسلم ملک بن گیا

متحدہ عرب امارات ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے والا پہلا مسلم ملک بن گیا

متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت قائم کیے گئے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت باضابطہ طور پر قبول کرلی ہے، جسے خطے اور عالمی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق اس فیصلے کا اعلان منگل کے روز یو اے ای کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کیا گیا۔
وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات غزہ بورڈ آف پیس میں نہ صرف شامل ہوگا بلکہ اس کے مقاصد کے حصول کے لیے فعال شمولیت اور عملی تعاون کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔

بیان میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ یو اے ای اس فورم کے ذریعے غزہ میں امن، استحکام اورمستقبل کی خوشحالی کے لیے مؤثر کردار ادا کرے گا اور اس سلسلے میں امریکا سمیت عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

اماراتی وزارتِ خارجہ کے مطابق بورڈ آف پیس کا مقصد صرف جنگ بندی تک محدود نہیں بلکہ غزہ میں نظم و نسق، بحالی، انسانی امداد اور طویل المدتی استحکام کے لیے ایک قابلِ عمل فریم ورک تیار کرنا ہےیو اے ای نے واضح کیا کہ وہ عالمی سطح پر تعاون کے فروغ، تنازعات کے پُرامن حل اور خطے میں اقتصادی و سماجی استحکام کے لیے اس امریکی اقدام کو ایک اہم موقع سمجھتا ہے۔

غزہ امن منصوبے میں شمولیت سے انکار،ٹرمپ کی میکرون کو رجیم چینج کی دھمکی

اس فیصلے کے ساتھ ہی متحدہ عرب امارات نہ صرف پہلا مسلم ملک بن گیا ہے جس نے کھل کر ٹرمپ کے اس امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا، بلکہ اُن ابتدائی ممالک میں بھی شامل ہوگیا ہے جو عملی طور پر اس بورڈ کا حصہ بننے پر آمادہ ہوئے ہیں، اس سے قبل یورپ سے ہنگری وہ پہلا ملک تھا جس نے بغیر کسی شرط کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی پیشکش قبول کی تھی۔

یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے بعد ایک ایسا امن منصوبہ پیش کیا تھا جس کے تحت حماس کی جگہ ایک عالمی بورڈ کے ذریعے غزہ کے انتظامی امور چلانے کی تجویز دی گئی اس منصوبے کے مطابق بورڈ آف پیس کی سربراہی خود امریکی صدر کریں گے، جب کہ اس کے بانی ارکان میں برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر، امریکی وزیر خارجہ، ٹرمپ کے داماد اور دیگر بین الاقوامی ٹیکنوکریٹس شامل ہیں۔

عالمی ردِعمل کے حوالے سے بات کی جائے تو اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے بھی بورڈ میں شمولیت کا عندیہ دیا ہے، تاہم تاحال باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اصولی طور پر آمادگی ظاہر کی ہے لیکن حتمی فیصلہ بورڈ کے چارٹر کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
دوسری جانب فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے اس منصوبے میں شامل ہونے سے واضح انکار کر دیا ہے، جس پر صدر ٹرمپ نےانہیں رجیم چینج کی دھمکی دی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *