نیند کم ہونے کی صورت میں دماغ کیا ردعمل دیتا ہے؟ تحقیق میں حیران کن انکشاف

نیند کم ہونے کی صورت میں دماغ کیا ردعمل دیتا ہے؟ تحقیق میں حیران کن انکشاف

سائنسدانوں نے نیند کی کمی کے شکار افراد کے دماغ میں ہونے والے ایک غیر معمولی اور حیرت انگیز عمل کو دریافت کیا ہے۔

نئی سائنسی تحقیق کے مطابق ناقص نیند کے بعد توجہ مرکوز رکھنے میں دشواری، سست ردعمل اور سوچنے کی صلاحیت میں کمی محض تھکن کا نتیجہ نہیں بلکہ دماغ کے اندر جاری ایک مخصوص حیاتیاتی عمل سے جڑی ہوئی ہے۔

امریکا کے میساچیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی تحقیق میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ نیند پوری نہ ہونے کے بعد دماغ کے اندر کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔

تحقیق میں معلوم ہوا کہ ایسے حالات میں دماغ کے اندر ایک خاص سیال کی حرکت بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت عارضی طور پر متاثر ہو جاتی ہے۔

نئی تحقیق نے نیند کی کمی کے بارے میں ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے: اگر آپ لمبے عرصے تک نیند پوری نہیں کرتے تو دماغ خود کو کھانا شروع کر دیتا ہے۔

مزید پڑھیں: موبائل فون کے بغیر گھبراہٹ ہوتی ہے؟ ماہرین صحت نے بڑھتے ہوئے ’نوموفوبیا‘ پر خبردار کر دیا

جب جسم شدید نیند کی کمی کا شکار ہوتا ہے تو دماغی خلیے دباؤ میں آ کر ایک عمل شروع کرتے ہیں جسے آٹو فیجی (Autophagy) کہا جاتا ہے، یعنی خلیے خود اپنے اجزاء کو توڑ کر توانائی حاصل کرتے ہیں۔

اگر یہ عمل زیادہ دیر تک جاری رہے تو دماغی کمزوری، یادداشت کی خرابی، اور ذہنی صلاحیت میں کمی جیسے سنگین اثرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

نیند صرف آرام کے لیے نہیں بلکہ دماغ کی مرمت اور صفائی کے لیے بھی ضروری ہے۔ گہری نیند کے دوران دماغ زہریلے مادے خارج کرتا ہے، اعصابی رابطے مضبوط کرتا ہے، اور اپنی کارکردگی کو بحال کرتا ہے۔ نیند نہ لینے سے یہ تمام اہم عمل رک جاتے ہیں، جس سے دماغی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

editor

Related Articles