’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کا مودی حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کا مودی حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

بھارت میں نوجوانوں کی جانب سے قائم کی گئی ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ نے مودی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ تنظیم ایک نئے قانونی تنازع میں بھی الجھ گئی ہے جس کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی تحریک کو سوشل میڈیا سے نکال کر سڑکوں تک لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جلد بھارت واپس آ کر اپنی جماعت کے ساتھ مل کر مرکزی وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کریں گے۔ انہوں نے ملک بھر کے نوجوانوں، بالخصوص طلبہ، کو دہلی میں ہونے والے پرامن احتجاج میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی کے مطابق تقریباً آٹھ لاکھ طلبہ ایک ایسی پٹیشن پر دستخط کر چکے ہیں جس میں وزیرِ تعلیم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ نوجوانوں کے مسائل اور تعلیمی شعبے میں پائی جانے والی خامیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جس کے خلاف منظم اور پرامن آواز اٹھانا ضروری ہو گیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :مودی حکومت نوجوانوں کی تحریک سے ڈر گئی، کاکروچ جنتا پارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند  

دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے قیام اور سرگرمیوں کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ اس تنظیم نے عدالتی ریمارکس کو مبینہ طور پر غلط انداز میں پیش کیا اور انہیں سیاسی و تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ درخواست میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ قانونی شعبے میں مبینہ جعلی وکلا اور جعلی ڈگریوں سے متعلق آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں جنہیں ترجیحاً مرکزی تحقیقاتی ادارے کے سپرد کیا جائے۔

 یہ بھی پڑھیں :بے روزگار نوجوانوں کی کاکروچ پارٹی سوشل میڈیا پر وائرل

یاد رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت منظر عام پر آئی تھی جب سپریم کورٹ کے ایک جج کے مبینہ ریمارکس پر سوشل میڈیا اور نوجوانوں کے حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ ان ریمارکس میں بے روزگار نوجوانوں کے لیے نامناسب الفاظ استعمال کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جس کے بعد متعدد نوجوانوں نے احتجاجاً ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے نام سے ایک تنظیم قائم کر دی۔ اب یہ تنظیم نہ صرف عوامی سطح پر اپنی موجودگی بڑھا رہی ہے بلکہ بھارتی سیاست اور عدالتی حلقوں میں بھی ایک نئی بحث کا سبب بن چکی ہے۔

editor

Related Articles