بجلی کے بل میں 10,000 روپے تک کا اضافہ، صارفین کے لیے بڑی خبر

بجلی کے بل میں 10,000 روپے تک کا اضافہ، صارفین کے لیے بڑی خبر

وفاقی حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں نئی اصلاحات متعارف کرانے کی تیاری کے بعد سولر سسٹم استعمال کرنے والے صارفین کے لیے تشویشناک اور پریشان کن خبر سامنے آئی ہے،نجی ٹی وی کے مطابق حکومت موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام کو ختم کر کے اس کی جگہ ایک نیا اور نسبتاً سخت نیٹ بلنگ ماڈل نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے جس کے نتیجے میں سولر صارفین کے ماہانہ بجلی کے بلوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور لوڈشیڈنگ کے مسائل کے باعث گزشتہ چند برسوں میں سولر سسٹمز کی تنصیب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے،موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام کے تحت صارفین اپنی پیدا کردہ بجلی گرڈ کو فراہم کرتے ہیں اور اسی مقدار میں اپنے استعمال شدہ یونٹس کو ایڈجسٹ کر لیتے ہیں اس طریقہ کار کے باعث متعدد صارفین کے بجلی کے بل یا تو نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں یا مکمل طور پر صفر ہو جاتے ہیں۔

مجوزہ نیٹ بلنگ نظام میں یہ سہولت ختم کیے جانے کا امکان ہے، نئے ماڈل کے تحت صارفین کو گرڈ سے حاصل کی گئی بجلی کے یونٹس مکمل سرکاری نرخوں پر ادا کرنا ہوں گے،جو اس وقت تقریباً 50 سے 60 روپے فی یونٹ تک ہیں، اس کے برعکس صارفین جو اضافی بجلی گرڈ کو فراہم کریں گے انہیں اس کا معاوضہ کہیں کم ممکنہ طور پر 10 سے 15 روپے فی یونٹ دیا جائے گا، اس فرق کے باعث سولر صارفین کی مجموعی بچت بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :وفاقی حکومت کا سیلاب متاثرین کیلیے بجلی بلز میں بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ

ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر درمیانے درجے کے گھریلو صارفین پر پڑے گا، مثال کے طور پر اگر کوئی صارف ماہانہ 300 یونٹس بجلی پیدا کر کے اتنے ہی یونٹس استعمال کرتا ہے اور موجودہ نظام میں اس کا بل صفر آتا ہے تو نئے نیٹ بلنگ ماڈل کے تحت اسے ماہانہ تقریباً 8 سے 10 ہزار روپے تک اضافی ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے۔

دوسری جانب حکومت اوربجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے باعث گرڈ کی دیکھ بھال، نظام کی بہتری اور دیگر اخراجات بڑھ رہے ہیں، جبکہ ریونیو میں کمی آ رہی ہے۔ حکام کے مطابق نئے نیٹ بلنگ قوانین کا مقصد بجلی کے نظام کو مالی طور پر مستحکم بنانا ہے۔

ادھر لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے احتیاطی طور پر نئے سولر میٹرز کی تنصیب روک دی ہے اور وفاقی وزارتِ توانائی کی جانب سے باضابطہ پالیسی گائیڈ لائنز کا انتظار کیا جا رہا ہے،توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے صارفین کے مفادات کو مدنظر رکھے بغیر یہ پالیسی نافذ کی تو سولر انڈسٹری کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے جو طویل مدت میں توانائی کے بحران کو مزید گہرا کر دے گی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *