احسن اقبال نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ دورۂ چین انتہائی کامیاب رہا، جس کے دوران سی پیک کے دوسرے مرحلے کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق کیا گیا۔
اپنے آبائی حلقے شکرگڑھ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ چین پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے تیار ہے جبکہ چینی کمپنیاں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لے رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چینی قیادت نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر جنگ نہ رکتی تو عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہو جاتی اور تیل کی قیمت چار سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی تھی، جس سے دنیا بھر میں غربت اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران تعاون پر چین کا شکر گزار ہے، جبکہ دنیا وزیراعظم شہباز شریف اور سید عاصم منیر کے کردار کو تسلیم کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان زراعت، اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں جدید خطوط پر ترقی کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کی صنعتی اور زرعی اپ گریڈیشن میں مدد فراہم کرے گا،احسن اقبال نے بتایا کہ پاکستان نے چین کے تعاون سے چھ سیٹلائٹ خلا میں بھیجے ہیں جو دونوں ممالک کی مشترکہ کامیابی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی کی لہر پیدا ہوئی ہے جس سے امریکا، آسٹریلیا، یورپ اور دیگر ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں۔
وفاقی وزیر نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بعض عناصر صرف مخالفت برائے مخالفت کی سیاست کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان کو اس وقت استحکام اور معاشی ترقی کی ضرورت ہے۔