خیبرپختونخوا محکمہ جنگلات کا صوبائی کابینہ کے اختیارات استعمال کرنے کا انکشاف

خیبرپختونخوا محکمہ جنگلات کا صوبائی کابینہ کے اختیارات استعمال کرنے کا انکشاف

خیبرپختونخوا محکمہ ماحولیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات اور جنگلی حیات نے صوبائی کابینہ کے اختیارات غیرقانونی طور پر استعمال کرتے ہوئے کوہستان کے دونوں اضلاع میں لکڑی تقسیم کی جس کے نتیجے میں صوبائی خزانے کو 38 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔ انکوائری کمیٹی نے تین افسران کیخلاف رقم وصولی اور ترقی روکنے کی سزا تو تجویز کی تاہم احکامات جاری کرنے والے افسر کے حوالے سے خاموشی اختیار کی۔

کوہستان اپر اور لوئر کے جنگلات میں لکڑی کی کٹائی اور تلفی 1980 میں تب کی صوبائی حکومت اور عمائدین کوہستان کے مابین طے کردہ آٹھ نکاتی معاہدے کے تحت کی جاتی ہے۔ معاہدے کے مطابق متعلقہ فاریسٹ ہارویسٹنگ سوسائٹیز معاہدے کی مدت مکمل ہونے پر لکڑی کو سڑک کے کنارے منتقل کرتی ہیں جس کے بعد اس کو درگئی اور گوہر آباد کے سرکاری سیلز ڈپو میں پہنچایا جاتا ہے۔

قوانین کے تحت لکڑی منتقل کرنے سے قبل فارسٹ ڈیویلپمنٹ فنڈ، فارسٹ ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی وصولی لازم ہے، جبکہ محکمہ جنگلات کے مجاز افسر کی جانب سے باقاعدہ ٹرانسپورٹ پاس جاری کیا جاتا ہے۔ ضابطے کے مطابق لکڑی میں حصہ مالکان کا 80 فیصد جبکہ 20 فیصد حکومت کا ہے۔

ہر قسم کی لکڑی کے لیے حکومت کی علیحدہ پالیسیاں موجود ہیں: ڈرائی اسٹینڈنگ اور ونڈ فالین درختوں کی پالیسی 2013 اور غیرقانونی طور پر کٹی ہوئی لکڑی کے لیے وضع کردہ ایمنسٹی پالیسی جو 2016 میں ختم ہوئی تاہم بعد میں توسیع دی گئی اور وہ بھی 6 جنوری 2023 کو ایکسپائر ہو گئی۔ ان پالیسیوں کی منظوری اور توسیع کا اختیار صرف صوبائی کابینہ کے پاس ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی زبان کے معاملے پر دوہرا معیار؟ سوشل میڈیا صارفین کی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر شدید تنقید

دستاویزات کے مطابق یوسف خان اُس وقت چیف کنزرویٹر تھے اور انہیں ناردرن فارسٹ ریجن ٹو کا چارج دیا گیا تھا۔ انہوں نے کابینہ کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان پالیسیوں پر عملدرآمد کے لیے 11 جنوری 2024 کو ایک حکم نامہ جاری کیا جسے آرڈر نمبر 60 کہا جاتا ہے۔ اس حکم کے تحت 92 ہزار کیوبک فٹ لکڑی جاری کی گئی جس سے صوبائی خزانے کو 38 کروڑ 21 لاکھ 91 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔

اسی حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے کنزرویٹر فرخ سیر نے 1500 دیودار اور 22 ہزار 209 کیوبک فٹ لکڑی ایمنسٹی پالیسی کے تحت جاری کی، جس سے خزانے کو 10 کروڑ 95 لاکھ 41 ہزار روپے کا نقصان پہنچا۔ مزید 34 ہزار 903 کیوبک فٹ لکڑی کی ریلیز سے 13 کروڑ 63 لاکھ 25 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔ اس کے علاوہ انہوں نے 4 دسمبر 2023 کو اگرور اور تناول کے ڈیزگنیٹڈ فارسٹ ایریاز میں مائننگ کی اجازت بھی دی۔

ڈی ایف او اپر کوہستان سلمان نے مجاز نہ ہونے کے باوجود 19 ہزار 38 کیوبک فٹ لکڑی جاری کی جس سے صوبائی خزانے کو 9 کروڑ 34 لاکھ 69 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔ اسی طرح ڈی ایف او لوئر کوہستان ایاز علی شاہ نے 15 ہزار 865 کیوبک فٹ لکڑی ریلیز کر کے خزانے کو 4 کروڑ 28 لاکھ 56 ہزار روپے کا نقصان پہنچایا۔

موجود ریکارڈ کے مطابق لکڑی کی ریلیز کے لیے متعلقہ افسران نے فی کیوبک فٹ کم از کم 1500 روپے کی قیمت مقرر کی تھی، جبکہ فارمل انکوائری کمیٹی نے سرکاری ڈپو سے نرخ معلوم کیے تو وہ 4933 روپے فی کیوبک فٹ نکلے۔ اسی بنیاد پر 38 کروڑ روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا۔ ذرائع کے مطابق مارکیٹ میں ایک کیوبک فٹ لکڑی کی قیمت 8 ہزار سے 10 ہزار روپے تک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سیکیورٹی بریفنگ سے متعلق خط کا پروپیگنڈا، محض گمراہ کن سوشل میڈیا مہم قرار

صوبائی کابینہ کے اختیارات کے استعمال اور اس سے ہونے والے نقصان کیلئے پہلے فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے بعد فارمل انکوائری ہوئی تاہم مذکورہ افیسرز کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور انہوں نے یہ کہا کہ وہ تو ماتحت افیسرز ہے اس لئے وہ احکامات پر عملدرامد کے پابند تھے، انکوائری کمیٹی نے ان کے سامنے سپریم کورٹ اف پاکستان کا 2012 میں ایک فیصلہ ( انیتہ تراب ) کا رکھا جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی سول سرونٹ اپنے افیسرز کے غیر قانونی احکامات پر عملدرامد کا پابند نہیں ہے۔

کنزرویٹر فرخ سیر گریڈ 19 میں ریٹائر ہو چکے ہیں، اس لئے انکوائری کمیٹی نے ان کی پنشن سے رقم کی وصولی کی سفارش کی ہے۔ ڈی ایف او سلمان اور ڈی ایف او ایاز علی شاہ کی دو سال کے لیے ترقی روکنے اور ان سے ریکوری کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ اس کے برعکس اصل احکامات جاری کرنے والے یوسف خان کے خلاف، وہ بھی اب ریٹائر ہو چکے ہیں، کسی قسم کارروائی کی واضح سفارش نہیں کی گئی، البتہ یہ لکھا گیا ہے کہ محکمہ ان کے بارے میں خود فیصلہ کرے۔

اس معاملے پر سیکرٹری جنگلات جنید خان کا موقف جاننے کے لیے انہیں سوالات ارسال کیے گئے لیکن انہوں نے ارسال کردہ سوالات کے جواب نہیں دئیے۔

Related Articles