پاکستان تحریک انصاف اور وزیراعلیٰ پختونخوا کی جانب سے اعلان کردہ اسٹریٹ موومنٹ پشاور میں مطلوبہ عوامی پذیرائی حاصل کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے کیونکہ عوام کے ساتھ ساتھ کارکنان کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابرہے ۔
آزاد ڈیجیٹل رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی سٹریٹ موومنٹ کیلئے صبح دس بجے کا وقت دیا گیا تھا لیکن دوپہر 12 بجے تک مرکزی قیادت غائب تھی ، شہر کے مختلف مقامات پر پارٹی بینرز اور فلیکسز ضرور آویزاں تھے، تاہم عملی طور پر کارکنان کی موجودگی نہ ہونے کے برابر رہی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی پشاور کے علاقے جھگڑا اسٹاپ آمد کے موقع پر صورتحال مزید واضح ہو گئی، جہاں صرف 10 سے 15 کارکن استقبال کے لیے موجود تھے، اس موقع پر پارٹی کی مرکزی و ضلعی قیادت بھی منظر سے غائب رہی۔
تحریک انصاف نے موومنٹ کیلئے ہفتے کا دن مختص کیا تھا لیکن عوام اور خاص طور پر کارکنان کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے ، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی جھگڑا سٹاپ پہنچ گئے جہاں سے وہ مردان اور نوشہرہ کیلئے نکلیں گے ، پشاور سے خالی گاڑیاں پی ٹی آئی اسٹریٹ موومنٹ میں شرکت کے لیے روانہ ہونے لگیں ۔
🚨🚨پی ٹی آئی اسٹریٹ موومنٹ کے لیے صبح 10 بجے کا وقت مقرر کیا گیا تھا، لیکن دوپہر 12 بج گئے پارٹی قیادت تاحال غائب۔۔کارکنان کی عدم دلچسپی تعداد نہ ہونے کے برابر۔۔ تازہ ترین تفصیلات بتارہے ہیں نمائندہ آزاد ڈیجیٹل سید زیشان pic.twitter.com/ARupsrfHn7
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) January 24, 2026
پی ٹی آئی اسٹریٹ موومنٹ کے نام پر پشاور شہر میں سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا جہاں جگہ جگہ بینرز، سیکیورٹی انتظامات اور پولیس نفری تعینات کی گئی تھی ، جبکہ کارکنوں کی تعداد اس کے مقابلے میں انتہائی کم نظر آئی۔
رپورٹس کے مطابق کئی مقامات پر کارکنوں سے زیادہ پولیس اہلکار اور صحافی نظر آئے ، جو موومنٹ کی سنجیدگی اورعوامی حمایت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
پی ٹی آئی اسٹریٹ موومنٹ کے دوران پشاور جی ٹی روڈ کو عارضی طور پر بند کیا گیا، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ٹریفک کی روانی متاثر رہی۔
🚨🚨پشاور سے خالی گاڑیاپی ٹی آئی اسٹریٹ موومنٹ میں شرکت کے لیے روانہ۔۔۔ pic.twitter.com/8r6CHvjTS8
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) January 24, 2026

