حکومت پنجاب نے تعلیمی نظام کو مؤثر بنانے اور طلبہ کی تعلیمی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے اسکولوں اور کالجوں کی چھٹیوں سے متعلق ایک نیا منصوبہ تیار کر لیا ہے،نجی ٹی وی اے آر وائی کے مطابق اس منصوبے کے تحت صوبے بھر میں تعلیمی اداروں کے سالانہ تعلیمی دنوں میں اضافہ کیا جائے گا، جس کا مقصد نصاب کی بروقت تکمیل اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے صوبے کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں اور کالجوں میں سالانہ تعلیمی ایام کی تعداد بڑھا کر 190 دن کرنے کی تجویز دی ہے۔
اس مقصد کے حصول کے لیے چھٹیوں کے دورانیے میں کمی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس حوالے سے قائم خصوصی کمیٹی نے اپنی سفارشات مرتب کر لی ہیں جنہیں متعلقہ حکام کو پیش کیا جا چکا ہے۔
کمیٹی کی سفارشات کے مطابق موسمِ گرما کی چھٹیاں جو تقریباً ڈھائی ماہ پر مشتمل ہوتی ہیں کم کر کے 6 ہفتے (ڈیڑھ ماہ) تک محدود کر دی جائیں گی۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ طویل تعطیلات کی وجہ سے طلبہ کی تعلیمی روانی متاثر ہوتی ہے اور اساتذہ کو نصاب مکمل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حکومت کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد طلبہ اور طالبات کی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنانا، سیکھنے کے تسلسل کو برقرار رکھنا اور تعلیمی نصاب کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنا ہے۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ تعلیمی دنوں میں اضافے سے نہ صرف طلبہ کی علمی صلاحیتوں میں بہتری آئے گی بلکہ امتحانی نتائج پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ نجی اسکول ایسوسی ایشنز نے بھی حکومت کی اس تجویز کی حمایت کی ہے،نجی تعلیمی اداروں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ تعلیمی دن بڑھائے جائیں تو اس سے طلبہ، اساتذہ اور والدین تینوں کو فائدہ ہوگا۔