امریکی ٹیرف پابندیوں نے بھارت کی نام نہاد خودمختار خارجہ پالیسی بے نقاب کر دی

امریکی ٹیرف پابندیوں نے بھارت کی نام نہاد خودمختار خارجہ پالیسی بے نقاب کر دی

امریکی ٹیرف پابندیوں کے نتیجے میں بھارت کی نام نہاد خودمختار خارجہ پالیسی اور منافقانہ سفارتی بیانیہ ایک بار پھر بے نقاب ہو کر سامنے آ گیا ہے۔ خود کو عالمی فورمز پر غیر جانبدار اور آزاد خارجہ پالیسی کا علمبردار قرار دینے والا بھارت اس وقت شدید عالمی سفارتی تنہائی اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی معاشی پابندیوں کے سامنے بھارت کا طرزِ عمل اس کے دعوؤں کے بالکل برعکس ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے حالیہ بیان میں تصدیق کی کہ امریکی ٹیرف پابندیوں کے بعد بھارت نے روسی تیل کی خریداری میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ ان کے مطابق بھارتی ریفائنریوں کی جانب سے روسی تیل کی درآمد میں کمی امریکی پالیسی کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔ امریکی وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ بھارت پر عائد 25 فیصد ٹیرف کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں، جبکہ ان پابندیوں کو برقرار رکھنے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال اگست میں امریکا نے بھارتی مصنوعات پر ٹیرف کی شرح 50 فیصد تک بڑھا دی تھی، جس کے بعد بھارتی برآمدات کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق امریکی پابندیوں کے باعث بھارت کی تجارتی حکمت عملی دباؤ کا شکار ہے اور حکومت کو کئی اہم معاشی فیصلوں پر نظرثانی کرنا پڑی۔

یہ بھی پڑھیں :مودی کی خارجہ پالیسی پر کاری ضرب، معروف بھارتی صحافی روش کمار نے گودی میڈیا کا چہرہ بے نقاب کر دیا

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی دباؤ اور پابندیوں پر عملدرآمد نے بھارت کے خود ساختہ “وشو گرو” بننے کے خواب کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق بھارت کا خودمختاری کا بیانیہ امریکی پابندیوں کے سامنے زمیں بوس ہو چکا ہے اور نئی دہلی کو اپنی خارجہ پالیسی میں واضح پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے۔

ماہرین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارتی خارجہ پالیسی حقیقت پسندی اور طویل المدتی قومی مفادات کے بجائے داخلی سیاسی بیانیے، جذباتی نعروں اور ہندوتوا نظریات کی اسیر بن چکی ہے۔ اسی وجہ سے بھارت عالمی سطح پر ایک متوازن اور خودمختار کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بھارت نے اپنی خارجہ اور معاشی پالیسیوں میں حقیقت پسندانہ اصلاحات نہ کیں تو مستقبل میں اسے مزید عالمی دباؤ اور سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو اس کی معیشت اور عالمی ساکھ دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *