امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد توانائی کی عالمی منڈی میں بے یقینی کی صورتحال مزید گہری ہو گئی ہے۔
مارکیٹ رپورٹس کے مطابق امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت ایک ہی روز میں 7 فیصد سے زائد اضافے کے بعد تقریباً 75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ برطانوی خام تیل (برینٹ) بھی بڑھ کر 79 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہونے لگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر استعمال ہونے والے خام تیل کا بڑا حصہ سمندری راستے سے گزرتا ہے۔
اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ جاتی ہے اور خام تیل کی قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں۔
عالمی منڈی پر اثرات
ماہرین کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی یا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں، ایسی صورت میں دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتیں بڑھنے اور مہنگائی میں اضافے کے خدشات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہونے کی صورت میں درآمدی لاگت بھی بڑھ جائے گی۔
اگر عالمی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہا تو آئندہ جائزے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ عالمی اوسط قیمت، روپے کی قدر اور حکومت کی ٹیکس و پیٹرولیم لیوی سے متعلق پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔