سوزوکی آلٹو کے مقابلے میں نئی گاڑی مارکیٹ میں آگئی، قیمت اور فیچرز جانئے

سوزوکی آلٹو کے مقابلے میں نئی گاڑی مارکیٹ میں آگئی، قیمت اور فیچرز جانئے

کئی برسوں سے پاکستان میں سوزوکی آلٹو کو کم قیمت، کم ایندھن خرچ کرنے والی اور آسانی سے مینٹین ہونے والی گاڑی کے طور پر سب سے مقبول انتخاب سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم کائی ای ای-کیوٹ 04 کی آمد کے بعد یہ تاثر بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔

کائی ای ای-کیوٹ 04 کے 300 کلومیٹر رینج والے ابتدائی ماڈل کی تعارفی قیمت 39 لاکھ 90 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، جو سوزوکی آلٹو وی ایکس ایل اے جی ایس کی موجودہ ایکس فیکٹری قیمت 33 لاکھ 26 ہزار 446 روپے سے تقریباً 6 لاکھ 63 ہزار 554 روپے زیادہ ہے۔ بظاہر یہ فرق بڑا محسوس ہوتا ہے، تاہم فیچرز، کارکردگی، کیبن کے حجم اور چلانے کے اخراجات کو مدنظر رکھا جائے تو کائی ای خریداروں کے لیے زیادہ بہتر انتخاب ثابت ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ دونوں گاڑیوں کی قیمت میں تقریباً 6 لاکھ 64 ہزار روپے کا فرق ہے، لیکن آلٹو خریدنے والے بہت سے صارفین بعد میں گاڑی میں مختلف تبدیلیاں کرواتے ہیں۔

ان میں آفٹر مارکیٹ ٹچ اسکرین، الائے وہیلز، بہتر ٹائر، ریورس کیمرا، اپ گریڈ اسپیکرز، فوگ لیمپس، سیٹ کورز اور دیگر لوازمات شامل ہیں، جن پر عموماً مزید ڈیڑھ لاکھ سے اڑھائی لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے۔ اس اضافی لاگت کے بعد دونوں گاڑیوں کی قیمت کا فرق کافی حد تک کم ہو جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود آلٹو کائی ای کے اصل فیچرز، کارکردگی اور کشادہ کیبن کا مقابلہ نہیں کر پاتی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آلٹو کا اندرونی حصہ بنیادی سہولیات پر مشتمل ہے، جس میں ایئر کنڈیشننگ، پاور اسٹیئرنگ، پاور ونڈوز اور وی ایکس ایل اے جی ایس میں ٹچ اسکرین شامل ہے، تاہم 33 لاکھ روپے سے زائد قیمت کے باوجود اس کا کیبن سادہ محسوس ہوتا ہے۔

اس کے برعکس کائی ای ای-کیوٹ 04 میں ڈیجیٹل ڈسپلے، اسمارٹ فون کنیکٹیویٹی، ملٹی فنکشن اسٹیئرنگ وہیل، آٹومیٹک کلائمیٹ کنٹرول، الیکٹرانک پارکنگ بریک، آٹو ہولڈ، پچھلی نشستوں کے لیے اے سی وینٹس، 360 ڈگری کیمرا، یو ایس بی اور یو ایس بی-سی پورٹس، چھ اسپیکرز، کی لیس انٹری اور کالم ماونٹڈ ڈرائیو سلیکٹر جیسے جدید فیچرز موجود ہیں، جس سے یہ گاڑی جدید بین الاقوامی سٹی کار کا تاثر دیتی ہے۔

فیچرز کے تقابلی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ کائی ای میں سنگل اسپیڈ الیکٹرک ٹرانسمیشن، اینڈرائیڈ آٹو، ایپل کار پلے، چھ اسپیکرز، 360 ڈگری کیمرا، فیکٹری فٹڈ ریئر پارکنگ اسسٹ، آٹومیٹک کلائمیٹ کنٹرول، ریئر اے سی وینٹس، الیکٹرانک پارکنگ بریک، آٹو ہولڈ، ٹائر پریشر مانیٹرنگ سسٹم، اسٹیبلٹی کنٹرول، ٹریکشن کنٹرول اور مقامی اسپیسفکیشن کے مطابق الائے وہیلز جیسے فیچرز شامل ہیں، جبکہ آلٹو میں ان میں سے کئی سہولیات موجود نہیں۔

دونوں گاڑیوں میں ہِل اسٹارٹ اسسٹ، آئی ایس او فکس ماؤنٹس اور ڈوئل فرنٹ ایئر بیگز موجود ہیں، تاہم رپورٹ کے مطابق آفٹر مارکیٹ تبدیلیوں کے باوجود آلٹو میں وہ حفاظتی اور جدید سہولیات شامل نہیں کی جا سکتیں جو کائی ای میں فیکٹری سے فراہم کی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ کے بعد عوام کی پسندیدہ سوزوکی آلٹو کی قیمت کیا ہوگی ؟

رپورٹ کے مطابق کائی ای صرف الیکٹرک متبادل نہیں بلکہ حجم کے اعتبار سے بھی آلٹو سے نمایاں طور پر بڑی گاڑی ہے۔ اس کی لمبائی 3,695 ملی میٹر جبکہ آلٹو کی 3,395 ملی میٹر ہے۔ کائی ای کی چوڑائی 1,685 ملی میٹر جبکہ آلٹو کی 1,475 ملی میٹر ہے، یعنی کائی ای 300 ملی میٹر لمبی اور 210 ملی میٹر زیادہ چوڑی ہے۔

اس کا وہیل بیس بھی 2,500 ملی میٹر ہے جبکہ آلٹو کا 2,460 ملی میٹر ہے۔ کائی ای میں پانچ افراد بیٹھ سکتے ہیں جبکہ آلٹو سرکاری طور پر چار نشستوں والی گاڑی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کائی ای کا اندرونی حصہ سوزوکی سوئفٹ سے بھی زیادہ کشادہ ہے، جس سے روزمرہ استعمال میں مسافروں کو زیادہ جگہ اور آرام ملتا ہے۔

کارکردگی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آلٹو میں 658 سی سی تین سلنڈر پیٹرول انجن استعمال کیا گیا ہے جو تقریباً 39 ہارس پاور اور 56 نیوٹن میٹر ٹارک پیدا کرتا ہے، جبکہ کائی ای میں 40 کلو واٹ الیکٹرک موٹر نصب ہے جو تقریباً 54 ہارس پاور اور 110 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرتی ہے۔ اس طرح کائی ای تقریباً دوگنا ٹارک پیدا کرتی ہے، جبکہ الیکٹرک موٹر فوری طاقت فراہم کرتی ہے، جس سے شہری ٹریفک میں گاڑی زیادہ تیز رفتار اور بہتر ردعمل دیتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آلٹو کا اے جی ایس ٹرانسمیشن اگرچہ ایندھن کی بچت کرتا ہے، لیکن گیئر تبدیل کرتے وقت جھٹکے محسوس ہو سکتے ہیں، جبکہ کائی ای میں روایتی گیئر باکس نہ ہونے کی وجہ سے اس کی ڈرائیونگ زیادہ ہموار رہتی ہے۔

رپورٹ میں کائی ای کے حق میں سب سے مضبوط دلیل اس کے کم آپریٹنگ اخراجات کو قرار دیا گیا ہے۔ موجودہ پیٹرول قیمت 297 روپے 53 پیسے فی لیٹر اور آلٹو کی اوسط 18 کلومیٹر فی لیٹر مائلیج کی بنیاد پر اس کی فی کلومیٹر لاگت تقریباً 16 روپے 53 پیسے بنتی ہے۔ دوسری جانب کائی ای کی 28.08 کلو واٹ آور بیٹری ایک چارج پر تقریباً 300 کلومیٹر رینج فراہم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موٹر سائیکل اور گاڑی مالکان خبردار، آج سے بڑا کریک ڈاؤن شروع

اگر بجلی کی قیمت 34 روپے فی یونٹ فرض کی جائے تو مکمل چارج کی لاگت تقریباً 955 روپے بنتی ہے، یعنی فی کلومیٹر لاگت تقریباً 3 روپے 18 پیسے ہوگی، جبکہ اگر بجلی 50 روپے فی یونٹ بھی ہو تو یہ لاگت تقریباً 4 روپے 68 پیسے فی کلومیٹر بنتی ہے۔ ان اندازوں کے مطابق کائی ای آلٹو کے مقابلے میں تقریباً 12 روپے فی کلومیٹر کی بچت کر سکتی ہے۔

اگر کوئی صارف ہر ماہ ایک ہزار کلومیٹر سفر کرے تو اسے تقریباً 12 ہزار روپے ماہانہ یا ایک لاکھ 44 ہزار روپے سالانہ کی بچت ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ابتدائی قیمت کا فرق پانچ سال سے بھی کم عرصے میں پورا ہونے کا امکان ہے۔ سولر سسٹم استعمال کرنے والے یا زیادہ سفر کرنے والے صارفین کے لیے یہ مدت مزید کم ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق الیکٹرک گاڑی میں پیٹرول گاڑی کے مقابلے میں متحرک پرزے کم ہوتے ہیں، اس لیے کائی ای میں انجن آئل، آئل فلٹر، اسپارک پلگ، فیول فلٹر، کلچ مینٹیننس، روایتی گیئر باکس سروسنگ اور انجن ٹیوننگ کی ضرورت نہیں پڑتی، جس سے سالانہ تقریباً 40 ہزار روپے تک کی بچت ممکن ہے۔

تاہم گاڑی میں ٹائر، سسپنشن، بریک، کولنٹ اور ایئر کنڈیشننگ کی معمول کی دیکھ بھال پھر بھی ضروری رہے گی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ری جنریٹو بریکنگ کی وجہ سے بریک کے پرزوں کا استعمال بھی نسبتاً کم ہوتا ہے۔

اس کے باوجود رپورٹ میں سوزوکی آلٹو کے کئی اہم فوائد بھی بیان کیے گئے ہیں۔ پاک سوزوکی کا ملک بھر میں وسیع ڈیلرشپ اور سروس نیٹ ورک موجود ہے، اس کے پرزے آسانی سے دستیاب ہیں، آزاد مکینک اس گاڑی سے اچھی طرح واقف ہیں اور اس کی ری سیل ویلیو بھی مضبوط ہے۔

دوسری جانب کائی ای پاکستان میں نئی گاڑی ہے، اس لیے اس کی طویل مدتی ری سیل ویلیو ابھی واضح نہیں، جبکہ کیو آٹوز کو ملک بھر میں اسپیئر پارٹس، تربیت یافتہ ٹیکنیشنز اور بیٹری ڈائیگناسٹک سہولیات کا نیٹ ورک قائم کرنے میں وقت درکار ہوگا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آلٹو کو پاکستان میں تقریباً ہر جگہ چند منٹ میں ایندھن فراہم کیا جا سکتا ہے، جبکہ کائی ای زیادہ تر گھریلو چارجنگ اور بتدریج ترقی کرتے پبلک چارجنگ نیٹ ورک پر انحصار کرتی ہے۔ اپارٹمنٹس میں رہنے والے یا مستقل پارکنگ اور بجلی کی سہولت نہ رکھنے والے صارفین کے لیے گاڑی چارج کرنا مشکل ہو سکتا ہے، جبکہ دور دراز بین الاضلاعی سفر کرنے والوں کے لیے بھی آلٹو نسبتاً زیادہ آسان انتخاب ثابت ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کائی ای ای-کیوٹ 04 کی 300 کلومیٹر رینج چین کے سی ایل ٹی سی معیار کے تحت بیان کی گئی ہے، تاہم حقیقی حالات میں یہ رینج تقریباً 240 سے 250 کلومیٹر تک ہو سکتی ہے۔

تیز رفتاری، شدید گرمی یا سردی، ایئر کنڈیشننگ، زیادہ وزن اور بیٹری کی عمر جیسے عوامل رینج کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے خریداروں کو اشتہاری رینج کو ہر صورتحال میں یقینی نہیں سمجھنا چاہیے، اگرچہ یہی صورتحال پیٹرول گاڑیوں کی ایندھن اوسط کے ساتھ بھی پیش آ سکتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ 39 لاکھ 90 ہزار روپے کی قیمت صرف ابتدائی بیچ کے لیے متعارف کرائی گئی ہے، جبکہ 300 کلومیٹر ورژن کی معمول کی قیمت 44 لاکھ 90 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔ اس قیمت پر آلٹو کے مقابلے میں فرق بڑھ کر تقریباً 11 لاکھ 60 ہزار روپے ہو جاتا ہے، اگرچہ اس کے باوجود کائی ای فیچرز کے لحاظ سے بہتر سمجھی گئی ہے۔ خریداروں کو بکنگ سے قبل حتمی قیمت، ڈیلیوری شیڈول، چارجر کی دستیابی، وارنٹی اور رجسٹریشن اخراجات کی تصدیق کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔

 

Related Articles