تیراہ دہشتگردی کا ایک بڑا گڑھ بن چکا جہاں دہشتگردوں اور سمگلرز نے گٹھ جوڑ بنا رکھا ہے،مزمل سہروردی

تیراہ دہشتگردی کا ایک بڑا گڑھ بن چکا جہاں دہشتگردوں اور سمگلرز نے گٹھ جوڑ بنا رکھا ہے،مزمل سہروردی

  سینئرتجزیہ کار مزمل سہروردی نے کہا ہے کہ تیراہ کے حوالے سے نوٹیفکیشن مکمل طور پر صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جبکہ نہ وفاقی حکومت اور نہ ہی پاک فوج نے کسی قسم کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔

اس لیے وفاق یا عسکری اداروں کو اس فیصلے کا ذمہ دار ٹھہرانا حقائق کے منافی اورمحض ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش ہے۔مزمل سہر وردی نے کہا کہ تیراہ کا علاقہ طویل عرصے سے دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے جہاں ماضی میں متعدد ہائی پروفائل دہشت گردی کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گرد نیٹ ورکس نے منشیات کے منظم کاروبار کے ساتھ گٹھ جوڑ قائم کر رکھا ہے۔

تیراہ میں ملک کی سب سے بڑی منشیات کی منڈیاں لگتی ہیں، جہاں ڈرگ ڈیلرز اور دہشت گرد عناصر ایک دوسرے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتے ہیں ایسے میں اس پورے نیٹ ورک کا خاتمہ صوبائی حکومت کی آئینی اور انتظامی ذمہ داری بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :مزمل سہروردی نے عادل راجہ اور احمد نورانی کی فیک خبروں کا پوسٹ مارٹم کردیا

انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز معمول کا حصہ ہوتے ہیں تاہم اگرمکمل طور پردہشت گردی کا قلع قمع ہے تو مخصوص علاقوں کو کلیئر کرنا ناگزیر ہے۔

اس مقصد کے لیے واضح اور مستقل حکمت عملی درکار ہوتی ہے ،صوبائی حکومت اور مقامی مشران کے درمیان اس حوالے سے ایک معاہدہ بھی طے پایا تھا جس کے تحت چار ارب روپے کی خطیر رقم جاری کی گئی ۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ ملکی سلامتی جیسے سنجیدہ فیصلے سوشل میڈیا کے دباؤ اورردِعمل کے خوف کے تحت کیے جائیں یا واپس لے لیے جائیں۔

سہیل آفریدی نےپہلے سب اقدام کئے اب باہر بیٹھےچند یوٹیوبرکے ڈر سے پیچھے ہٹ گئے، سہیل آفریدی کی صوبائی پالیسیوں کا تعین یوٹیوبرز اور وی لاگرز کے بیانیے کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے۔

سہیل آفریدی چند یوٹیوبر کے ڈر سے ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہے یہ افسوسناک ہے ،تیراہ دہشتگردی کا ایک بڑا گڑھ بن چکا جہاں دہشتگردوںاور سمگلرز نے گٹھ جوڑ بنا رکھا ہےموجودہ صورتحال میں سہیل آفریدی ایک مضبوط فیصلہ ساز کے بجائے کمزور ترین وزیر اعلیٰ کے طور پر سامنے آئے ہیں، جو فیصلے کر کے ان سے مکر جاتےہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *