افغانستان میں حالیہ حملے کے حوالے سے ایک نیا اور متنازع دعویٰ سامنے آیا ہے، جس میں سینیئر افغان صحافی رزاق مامون نے بھی افغان طالبان رجیم کے دعوؤں کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔
رزاق مامون کا وائرل ایک ویڈیو بیان سامنے آیا ہے کہ جس میں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کسی اسپتال کو نہیں بلکہ ایک خفیہ ڈرون ورکشاپ کو نشانہ بنایا تھا۔ ان کے مطابق یہ مقام بظاہر ایک عام تنصیب دکھائی دیتا تھا، تاہم درحقیقت وہاں جدید ڈرون ٹیکنالوجی پر کام ہو رہا تھا۔
رزاق مامون کے مطابق یہ خفیہ مرکز ایک ایسے علاقے میں قائم تھا جہاں منشیات کے عادی افراد کا کیمپ بھی موجود تھا، تاکہ سرگرمیوں کو چھپایا جا سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس مقام پر بھارتی انجینیئرز موجود تھے جو افغان طالبان کے افراد کو ڈرونز کی تیاری، پیکنگ، پروگرامنگ اور عملی استعمال کی تربیت دے رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں ڈرون ٹیکنالوجی کا حصول نسبتاً آسان ہو چکا ہے اور مختلف پرزہ جات باآسانی دستیاب ہوتے ہیں، تاہم ان کو مؤثر ہتھیار میں تبدیل کرنے کے لیے تربیت اور مہارت درکار ہوتی ہے، جو اس مبینہ مرکز میں فراہم کی جا رہی تھی۔ ان کے مطابق اس تربیت کے بعد طالبان کے پاس ایسے ماہرین موجود ہیں جو خودکش ڈرونز تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
صحافی نے دعویٰ کیا کہ اس حملے کا ہدف ایک ڈرون اسمبلی فیکٹری تھی، نہ کہ کوئی طبی سہولت۔ ان کے بقول وہاں کام کرنے والے افراد انجینیئرنگ پس منظر رکھتے تھے اور منظم انداز میں ڈرونز کی تیاری کا عمل جاری تھا۔
دوسری جانب افغان طالبان کی جانب سے اس حملے کو شہری تنصیبات پر حملہ قرار دیا گیا تھا، جبکہ پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اس کی کارروائیاں صرف دہشت گردی سے منسلک اہداف تک محدود ہوتی ہیں اور شہری آبادی کو نشانہ بنانا اس کی پالیسی نہیں۔
واضح رہے کہ اگرچہ افغانستان میں ڈرون ٹیکنالوجی کی تربیت اور تیاری کے مراکز موجود ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ جدید جنگی حکمت عملی میں ڈرونز کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے اور غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں میں اس ٹیکنالوجی کا آنا سیکیورٹی خدشات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ اس لیے ایسے کسی بھی نیٹ ورک کی موجودگی علاقائی استحکام کے لیے سنگین چیلنج ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں، جبکہ عالمی برادری بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔