چین نے مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ایک منفرد قدم اٹھاتے ہوئے سمندر کے اندر ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ متعارف کرا دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شنگھائی کے قریب سمندر میں ایک ایسا ڈیٹا سینٹر نصب کیا گیا ہے جو روایتی کولنگ سسٹمز کے بجائے سمندری پانی کی مدد سے سرورز کو ٹھنڈا رکھے گا۔ اس منصوبے کا مقصد توانائی کی بچت، پانی کے کم استعمال اور زمین پر انفراسٹرکچر کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق تقریباً 2 ہزار سرورز کو خصوصی آبدوز معیار کے ماڈیولز میں بند کیا گیا ہے، جو سمندر کی تہہ میں کام کریں گے۔ یہ ماڈیولز مصنوعی ذہانت، بڑے ڈیٹا سیٹس اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کے کاموں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
اس منصوبے کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ اسے آف شور ونڈ پاور یعنی سمندر میں نصب ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے نظام سے توانائی فراہم کی جائے گی، جس سے کاربن اخراج میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت نے دنیا بھر میں بجلی، کولنگ اور ڈیٹا انفراسٹرکچر کی طلب میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ ایسے میں سمندر کے اندر ڈیٹا سینٹرز مستقبل میں ایک متبادل اور زیادہ پائیدار حل ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاہم اس منصوبے کو کئی چیلنجز کا بھی سامنا ہے، جن میں سمندری پانی سے دھاتوں کا زنگ آلود ہونا، دیکھ بھال، سخت موسمی حالات اور طویل المدتی کارکردگی جیسے مسائل شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ثابت ہوتی ہے تو مستقبل میں دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے لیے درکار بڑے ڈیٹا سینٹرز کو سمندر کے اندر منتقل کرنے کا رجحان بڑھ سکتا ہے، جس سے توانائی کے استعمال اور ماحولیاتی اثرات میں کمی لائی جا سکے گی۔