چین نے ایک نیا سنگ میل عبور کرتے ہوئے دنیا کا پہلا تجارتی زیرِ آب ڈیٹا سینٹر فعال کر دیا ہے، جو سمندر کی تہہ میں قائم ہے اور زیادہ تر صاف توانائی پر چل رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ مشرقی شنگھائی کے ہائی ٹیک فری ٹریڈ زون لنگانگ کے قریب نصب کیا گیا ہے، جہاں ڈیٹا سینٹر سمندر کی سطح سے تقریباً 10 میٹر نیچے موجود ہے۔
یہ جدید منصوبہ شنگھائی لنگانگ انڈر سی ڈیٹا سینٹر ڈیمانسٹریشن پروجیکٹ کے نام سے جانا جاتا ہے، جسے شنگھائی ہائیلان یون ٹیکنالوجی اور چائنا کمیونیکیشنز کنسٹرکشن کمپنی کے اشتراک سے مکمل کیا گیا ہے۔ منصوبہ مئی میں باضابطہ طور پر فعال ہوا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ڈیٹا سینٹر کی مجموعی گنجائش 24 میگاواٹ ہے اور اس پر تقریباً 22 کروڑ 50 لاکھ ڈالر لاگت آئی ہے۔ اسے گزشتہ سال اکتوبر میں مکمل کیا گیا تھا۔
چینی حکام کا دعویٰ ہے کہ زیرِ آب ڈیٹا سینٹر روایتی زمینی ڈیٹا سینٹرز کے مقابلے میں 22 فیصد کم بجلی استعمال کرتا ہے۔ اس کی توانائی کا تقریباً 95 فیصد حصہ قریبی سمندری ونڈ فارم سے حاصل ہونے والی قابلِ تجدید توانائی پر مشتمل ہے۔
ڈیٹا سینٹرز میں سب سے بڑا چیلنج سرورز کو ٹھنڈا رکھنا ہوتا ہے، جس کے لیے بڑی مقدار میں پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم اس منصوبے میں سمندر کا پانی قدرتی کولنگ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، جس سے پانی کے استعمال میں 90 فیصد سے زیادہ کمی آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اگرچہ دنیا میں پہلے بھی زیرِ آب ڈیٹا سینٹرز کے تجربات کیے جا چکے ہیں، لیکن چین پہلی بار اسے تجارتی سطح پر لے آیا ہے، جو ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔