سابق ڈی آئی جی خیبرپختونخوا پولیس محمد ادریس خان نے کہا ہے کہ تیراہ میں کوئی باقاعدہ فوجی آپریشن نہیں ہو رہا بلکہ صرف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) کئے جارہے ہیں جنہیں جان بوجھ کر آپریشن کا نام دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔صوبائی حکومت اس معاملے پر اپنے ہی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا وار فیئر میں ملوث ہے اور چار ارب روپے کے فنڈز کھپانے کے لیے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی والے اب پی ٹی ایم کا روپ دھار رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ سوات اور ہنگو میں مکمل آپریشن ہوئے تھےتیراہ میں نہ فوج کی بھاری موومنٹ موجود ہے اور نہ ہی آپریشن جیسی صورتحال، سیزنل ہجرت کو آئی ڈی پیز سے جوڑ کر پیش کیا جا رہا ہے، قومیت کا رنگ دیا جا رہا ہے اور یہ تمام بیانیہ صوبائی حکومت کی گورننس ناکامی اور کرپشن چھپانے کی کوشش ہے، جو ریاست کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔
سابق ڈی آئی جی خیبرپختونخوا پولیس محمد ادریس خان نے پروگرام ’’آزاد سیاست‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوات اور ہنگو میں مکمل اور باقاعدہ آپریشن کیے گئے تھے، تاہم تیراہ کے حوالے سے جس کارروائی کو آپریشن قرار دیا جا رہا ہے وہ دراصل آپریشن نہیں بلکہ آئی بی اوز (انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز) ہیں اور اسے آپریشن کہنا ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے۔
محمد ادریس خان نے کہا کہ صوبائی حکومت جان بوجھ کر تیراہ میں ہونے والی محدود نوعیت کی کارروائیوں کو آپریشن کا نام دے رہی ہے، جس کے پیچھے اصل مقصد کرپشن چھپانا اور مخصوص فنڈز کو کھپانا ہے، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے ہی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا وار فیئر میں ملوث ہے جو انتہائی افسوسناک امر ہے۔
سابق ڈی آئی جی نے دعویٰ کیا کہ ڈپٹی کمشنر خیبر نے 28 اکتوبر کو ایک خط لکھا اور بعد ازاں 14 نومبر کو کابینہ کی ایجنڈا میٹنگ میں چار ارب روپے رکھے گئے۔حکومت اب جس کارروائی کو آپریشن قرار دے رہی ہے، اس کا مقصد انہی چار ارب روپے کے اجرا اور خرچ کو جواز فراہم کرنا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ آئی بی اوز ہیں نہ کہ مکمل فوجی آپریشن۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر واقعی کوئی بڑا آپریشن ہوتا تو اس میں فوج کی نمایاں اور بھاری موومنٹ نظر آتی جو تیراہ میں دیکھنے میں نہیں آئی،ان کا کہنا تھا کہ آئی ڈی پیز اور ہجرت کے معاملات کو دانستہ طور پر مکس کیا جا رہا ہے، جبکہ سوات اور ہنگو میں ہونے والے آپریشنز میں مقامی حکومت اور فوج نے باہمی مشاورت سے فیصلے کیے تھے۔
محمد ادریس خان کے مطابق تیراہ میں ہر سال خصوصاً دسمبر اور جنوری میں برفباری کے بعد سیزنل ہجرت ہوتی ہے اور مقامی لوگ عارضی طور پر باڑہ منتقل ہو جاتے ہیں اسے آپریشن کے نتیجے میں ہونے والی نقل مکانی قرار دینا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل سوال چار ارب روپے کے مبینہ غلط استعمال کا ہے، جس پر صوبائی حکومت کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سارا معاملہ چار ارب روپے ہڑپ کرنے کے گرد گھوم رہا ہے جہانگیر پورہ میں جعلی ٹوکنز کی بازگشت اور بھنگ کی کاشت کے سیزن کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ فنڈز کے اجرا کا مقصد بھی انہی الزامات سے جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
سابق ڈی آئی جی نے صوبائی حکومت کی تیرہ سالہ کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں سڑکیں اور ہسپتال تعمیر نہیں ہو سکے، اس لیے حکومت کے پاس عوام کو دکھانے کے لیے کچھ نہیں۔ ان کے مطابق اسی ناکامی کو چھپانے کے لیے معاملے کو قومیت کا رنگ دیا جا رہا ہے اور پختون کاز کے نام پر سیاست کی جا رہی ہے، جو خطرناک رجحان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ چیف سیکرٹری، آئی جی اور دیگر اعلیٰ افسران وفاق کے ہیں اور وہ بے بس ہیں تو پھر انہیں عہدے پر رہنے کا اخلاقی جواز نہیں اور انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے،محمد ادریس خان نے کہا صوبائی حکومت کا موجودہ بیانیہ گورننس کی ناکامی کو چھپانے کی کوشش ہے اور یہ بیانیہ ریاست کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔