امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب امریکی بحری بیڑا روانہ کیا، لیکن استعمال نہ کرنا بہتر ہوگا، امید ہے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی ضرورت نہ پڑے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مزید بات چیت کا ارادہ ہے، پہلے بھی ایران سے بات چیت ہو چکی ہے اور آئندہ بھی ہوگی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے لیے چین کے ساتھ کاروبار کرنا بہت خطرناک ہے، جبکہ کینیڈا کے لیے چین کے ساتھ کاروبار کرنا اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بڑھتے تجارتی تعلقات پر اتحادیوں کو محتاط رہنا ہوگا۔
کیوبا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں کیوبا کی موجودہ حکومت زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہ سکے گی۔
واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے بار بار کیوبا کے خلاف کارروائی کرنے اور اس کی قیادت پر شدید دباؤ ڈالنے کی بات کی ہے۔
ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے میں صدر ٹرمپ جو چاہیں گے پنٹاگون وہ کرنے کے لیے تیار ہوگا، ایران کے پاس معاہدہ کرنے کا موقع تھا، اسے اپنی جوہری صلاحیت میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ دفاع صدر ٹرمپ کی توقعات کے مطابق عمل کرنے کے لیے تیار رہے گا۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں امریکا کی فوجی موجودگی میں اضافے کے بعد ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے آبنائے ہرمُز میں بحری مشقیں کرنے کا اعلان کر دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب بحری فورس کی مشقیں آبنائے ہرمُز میں یکم اور دو فروری کو ہوں گی، امریکی میڈیا کے مطابق حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ میں لڑاکا طیارہ بردار بحری بیڑے سمیت امریکی جنگی جہازوں کی تعداد 6 ہوگئی ہے۔