حکومت کیجانب سے تحریک انصاف کو فائنل آفر ؟ عطا تارڑ نے مبینہ خبر کی تردید کردی

حکومت کیجانب سے تحریک انصاف کو فائنل آفر ؟ عطا تارڑ نے مبینہ خبر کی تردید کردی

وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ نے تحریک انصاف کیساتھ کسی بھی آفر یا ڈیل کی خبر کو بے بنیاد اور غلط قرار دیدیا ۔

تفصیلات کے مطابق  اینکر پرسن محمد مالک نے اپنے ایک پروگرام میں یہ دعوی کیا ہے حکومت نے پی ٹی آئی کو بڑی آفر دی ہے اور ایک دو اہم میٹنگز ہوئیں جس میں  اعلی سطح پر یہ طے پایا ہے کہ فائنل جامع آفر پی ٹی آئی کو بھیجوائی جائے اور  وہ یہ کہ پی ٹی آئی پارلیمان میں واپس آئے ، کمیٹیز میں واپس آئے ، پارلیمان کے پروسیجر میں حصہ لے اور فعال جمہوریت کی شکل دے ، اور اس کے بدلے میں دو چیزیں ہونگی  جس میں ایک تو یہ چیف الیکشن کمشنر کے بجائے پورا الیکشن کمیشن ری کانسٹی ٹیوٹ ہوگا ، قوانین میں تبدیلی ہوگی تاکہ الیکشن فری اینڈ فیئر ہوں ۔

محمد مالک نے یہ بھی  دعوی کیا ہے کہ سب سے بڑی بات اس میں یہ سامنے آئی ہے کہ ایک سال پہلے حکومت الکیشن کروانے پر تیار ہے ، یہ فیصلہ ہوگیا ہے اور اگر یہ ہوگیا تو پھر سال ڈیڑھ سال کے اندر یہ بھی نظرآئے گا  ، جو اس میں کہا گیا کہ عمران خان کی لیگل پرابلمز میں کمی اور لوگوں کے مسائل میں بھی کمی آئیگی ، لیکن یہ ایک پیکج ہے ٹیک اٹ اور لیو اٹ ۔۔۔۔  لیکن یہ ڈیل تیار ہوگئی کب جواب آتاہے یہ ابھی تک سامنے نہیں آیا، بھیا مانتے ہیں تو مانیں نہیں تو نہ مانیں ۔

اس مبینہ خبر کے ردعمل میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ نے  کہا کہ بالکل غلط! ایسی خبریں ہر چند دن بعد کیسے گھڑ لی جاتی ہیں؟میں اس کی سخت تردید کرتا ہوں ۔

اس کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل نے بھی کہا ہے کہ یہ بالکل ‘فیک نیوز’ ہے ،  ایسی کوئی پیشکش نہیں کی گئی ہے،  ان کا کہنا تھا کہ میں ان ذرائع کے ساتھ دوبارہ چیک کرنے کی درخواست کروں گا جن سے آپ یہ غلط معلومات حاصل کرنے کا دعوی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی سنجیدہ ہو تو حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے، وزیراعظم شہباز شریف

بیرسٹر عقیل نے کہا کہ اب تک جو پیشکش کی گئی ہے وہ صرف سیاسی جماعتوں کے درمیان ‘مذاکرات’ کی ہے اور کچھ بھی نہیں بغیر کسی شرط یا پیشگی شرائط کے، اس لیے ہمیں ایسی باتیں بتانے سے گریز کرنا چاہیے جو درست نہیں ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *