امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ پر دلچسپی اور اسے حاصل کرنے کی کوشش عالمی سطح پر زیرِ بحث ہے، لیکن حالیہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ محض جغرافیائی یا عسکری خواہش نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک طاقتور امریکی کاروباری شخصیت اور معروف کاسمیٹکس کمپنی کے مفادات کارفرما ہیں۔
میڈیا رپورٹ کیمطابق یورپی ممالک نے ٹرمپ کے ارادے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، اس حوالے سے فرانس کے وزیرِ خزانہ رولان لیسکور نے امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو واضح پیغام دیا کہ اگر گرین لینڈ پر کسی بھی قسم کی مداخلت کی گئی تو یہ “سرخ لکیروں کی خلاف ورزی” تصور کی جائے گی اور اس سے یورپ اور امریکہ کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ جزیرہ گرین لینڈ خود مختار ہے اور یورپی یونین کے دائرے میں شامل ہونے کے ناطے اس میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ ناقابل قبول ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ کی گرین لینڈ میں دلچسپی نئی نہیں بلکہ ان کی پہلی صدارتی مدت سے جاری ہے، اس سوچ کے پیچھے معروف امریکی کاروباری شخصیت رونالڈ لاؤڈر کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے، جو “ایسٹی لاؤڈر” کمپنی کے وارث اور صدر ٹرمپ کے پرانے دوست ہیں۔
سابق امریکی قومی سلامتی مشیر جان بولٹن نے دی گارڈین میں انکشاف کیا کہ ٹرمپ نے پہلی صدارتی مدت کے دوران ایک دن ڈونلڈ ٹرمپ نے مجھے اوول آفس میں بلایا، اور کہا کہ ایک نمایاں تاجر نے ابھی تجویز دی ہے کہ امریکا کو گرین لینڈ خرید لینا چاہیے، یہ ایک غیر معمولی تجویز تھی، اور اس کا آغاز صدر کے ایک دیرینہ دوست کی جانب سے ہوا تھا، جو بعد میں ڈنمارک کے زیرِ انتظام اس علاقے میں کاروباری مفادات حاصل کرنے والا تھا ، بولٹن کے مطابق یہ تاجر رونالڈ لاؤڈر تھے۔
لاؤڈر کا کہنا ہے کہ ان کی ملاقات ٹرمپ سے 1960 کی دہائی میں ہوئی تھی، جب دونوں نے ایک ہی معروف بزنس اسکول میں تعلیم حاصل کی، خاندانی کاسمیٹکس کاروبار میں کام کرنے کے بعد، لاؤڈر نے رونالڈ ریگن کے دور میں پینٹاگون میں خدمات انجام دیں، پھر آسٹریا میں امریکی سفیر مقرر ہوئے، اور 1989 میں نیویارک کے میئر کے عہدے کے لیے ناکام انتخابی مہم بھی چلائی۔
لاؤڈر اس کنسورشیم کا بھی حصہ ہیں جو یوکرین کے معدنی وسائل تک رسائی کی خواہش مند ہے۔
مختلف نیوز رپورٹس کے مطابق لاؤڈر کے سیاسی اقدامات اکثر ان کے تجارتی مفادات سے جڑے ہوتے ہیں، انہوں نے گرین لینڈ میں معدنی وسائل، لگژری پانی کی برآمد، اور پن بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔
لاؤڈر کے مطابق، جزیرے میں نایاب معدنی ذخائر اور برف پگھلنے سے کھلنے والے نئے بحری راستے عالمی تجارت اور سلامتی کے لیے اہمیت رکھتے ہیں اور اسی بنیاد پر وہ ٹرمپ کو گرین لینڈ کے حصول کی تجویز دینے پر اُکسا رہے ہیں۔
اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرین لینڈ کی حکمت عملی نہ صرف جغرافیائی یا عسکری معنی رکھتی ہے بلکہ اس کے پیچھے گہری تجارتی اور سیاسی منصوبہ بندی بھی چھپی ہوئی ہے، جو عالمی تعلقات اور بین الاقوامی تجارتی توازن پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔