یو اے ای نے ریموٹ ورکنگ ویزا کا اجرا شروع کر دیا، نئے قواعد وضوابط کی تفصیلات جانئیے

یو اے ای نے ریموٹ ورکنگ ویزا کا اجرا شروع کر دیا، نئے قواعد وضوابط کی تفصیلات جانئیے

بیرونِ ملک کام کرنے والے پروفیشنلز کے لیے ایک خوش آئند خبر سامنے آئی ہے، جہاں متحدہ عرب امارات نے ریموٹ ورکنگ ویزا کے لیے باضابطہ طور پر درخواستوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کے تحت عالمی سطح پر ملازمت کرنے والے افراد اب یو اے ای میں رہائش اختیار کرتے ہوئے اپنی موجودہ غیر ملکی نوکری جاری رکھ سکتے ہیں۔

یہ ویزا ابتدائی طور پر ایک سال کے لیے جاری کیا جائے گا، جس کی تجدید مقررہ شرائط پوری ہونے کی صورت میں ممکن ہوگی۔ اس اسکیم کی سب سے بڑی سہولت یہ ہے کہ درخواست گزار کو نہ تو کسی مقامی اسپانسر کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی یو اے ای میں ملازمت حاصل کرنا لازمی شرط قرار دی گئی ہے۔

امیگریشن حکام کے مطابق درخواست گزار کسی غیر ملکی کمپنی میں مستقل ملازمت میں ہونا چاہیے اور ریموٹ ورک کی اجازت کا باقاعدہ تحریری ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔ مزید سہولت کے طور پر درخواستیں یو اے ای کے اندر اور باہر دونوں جگہوں سے آن لائن دی جا سکیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اوورسیز پاکستانیوں کو بڑی خوشخبری سنا دی

اہم تبدیلی کے طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ 27 جنوری 2026 سے درخواست گزاروں کو گزشتہ چھ ماہ کے بینک اسٹیٹمنٹس جمع کروانا ہوں گے، جبکہ اس سے قبل تین ماہ کے اسٹیٹمنٹس قابلِ قبول تھے۔ اس فیصلے کا مقصد آمدنی کے تسلسل اور ملازمت کے استحکام کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔

درخواست گزاروں کو یو اے ای حکومت کی جانب سے مقرر کم از کم ماہانہ آمدنی پوری کرنا ہوگی، جبکہ قانونی ہیلتھ انشورنس، مستقل آمدنی کا ثبوت اور کمپنی کی جانب سے ریموٹ ورک کی اجازت کا خط بھی لازمی دستاویزات میں شامل ہیں۔ ویزا فیس تقریباً 81 امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے، جس کے علاوہ میڈیکل ٹیسٹ اور ایمریٹس آئی ڈی کی فیس علیحدہ ہوگی۔ درخواستوں پر عام طور پر پانچ سے سات کام کے دنوں میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔

ریموٹ ورکنگ ویزا رکھنے والے افراد اپنے شریکِ حیات، بچوں اور والدین کو بھی رہائش کے لیے اسپانسر کر سکیں گے، بشرطیکہ مقررہ امیگریشن قوانین پورے کیے جائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ویزا بغیر کسی قانونی پیچیدگی کے یو اے ای میں رہتے ہوئے کام کرنے کا محفوظ اور باقاعدہ راستہ فراہم کرتا ہے، جبکہ بغیر ویزا ریموٹ ورک کرنے والوں کو جرمانوں اور امیگریشن پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *