خیبرپختونخوا ہائوسنگ اتھارٹی میں کروڑوں کا سکینڈل،نیب نے تحقیقات شروع کردیں

خیبرپختونخوا ہائوسنگ اتھارٹی میں کروڑوں کا سکینڈل،نیب نے تحقیقات شروع کردیں

خیبرپختونخوا ہائوسنگ اتھارٹی میں صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد نے قریبی رشتہ داروں اور منظور نظر افراد کو غیر قانونی طور پر اہم ترین اورپرکشش عہدوں پر تعینات کر دیا جبکہ اتھارٹی میں سینکڑوں گھوسٹ ملازمین کے نام پر ماہانہ کروڑوں روپے وصول کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

اتھارٹی کی صرف ایک ہی گاڑی نے ایک ہی دن میں 800لیٹر پٹرول دھواں بن کر اڑا دیا، پختونخوا ہاوسنگ اتھارٹی میں صوبائی وزیر ہاوسنگ ڈاکٹر امجد کی سفارش پران کے رشتہ داروں کو خلاف قواعد و ضوابط نہ صرف اہم ترین اور پرکشش عہدوں پر تعینات کیا گیا بلکہ صوبائی کابینہ سے منظوری لئے بغیر براہ راست گریڈ17میں تقرری بھی کی گئی۔

کابینہ سے منظوری لئے بغیر گزشتہ دور میں اپنے 4قریبی رشتہ داروں کو منیجر کی آسامی پر 30ہزار روپے فکسڈ پے پر بھرتی کیا اور صوبائی کابینہ سے منظوری لئے بغیر ایک سال بعد انہیں گریڈ17کی اہم ترین اور پرکشش عہدوں پر تعینات کیا گیا۔

منیجر کی آسامی پر30ہزار روپے ماہانہ پر بھرتی عظمت علی کی ایک سال بعد گریڈ 17میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمن کی آسامی پر مستقل بنیادوں پر تقرری کر دی گئی کرامت علی کو گریڈ 17اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمن کی آسامی،وہاب کو گریڈ17کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر فنانس اورعبد الحمید کو گریڈ17میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمن کی آسامی پر تقرری کر دی گئی تمام بھرتی افراد نے کسی قسم کے مقابلے کا امتحان نہیں دیا اور نہ ہی انہیں گریڈ17میں مستقل بنیادوں پر بھرتی کرنے سے متعلق صوبائی کابینہ سے منظوری لی گئی۔

ذرائع کے مطابق چند سال قبل ڈیلی ویجز پر بھرتی 280ملازمین میں سینکڑوں گھوسٹ ملازمین کا انکشاف ہوا ہے جس کے خلاف قومی احتساب بیورو(نیب) نے بھی تحقیقات کا آغاز کردیا نیب نے محکمہ سے ملازمین کی فہرست اور انہیں دی جانے والی تنخواہوں سے متعلق ریکارڈ طلب کیا تاہم ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کے نہ تو ان بھرتیوں کے تقررنامے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کا ریکارڈ دستیاب ہے۔

فی ملازم کو 40ہزار روپے ماہانہ ڈیلی ویجز پر بھرتی کیا گیا ہے اور اس مد میں ماہانہ ایک کروڑ20لاکھ روپے وصول کئے جارہے ہیں ان تمام ملازمین کا ریکارڈ اتھارٹی کے پاس نہیں ہے اور بتایا جارہا ہے کہ اس مد میں سالانہ 8کروڑ روپے سے زائد مخصوص افراد وصول کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطا بق اتھارٹی کے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر نے ملازمین کی تنخواہیں اپنی اہلیہ کے پشاور یونیورسٹی روڈ پرواقع بینک میں منتقل کیں۔

قومی احتساب بیورو نے محکمہ ہاوسنگ میں ہونے والی بے قاعدگیوں سے متعلق معاؤن خصوصی برائے ہاوسنگ ڈاکٹر امجد علی کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا اور15اکتوبر2025ء کو ڈائریکٹرجنرل خیبر پختونخوا ہائوسنگ اتھارٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 22ملازمین کا ریکارڈ بھی طلب کیا تھا۔4نومبرکو نیب خیبر پختونخوا نے ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا ہاوسنگ اتھارٹی کے نام ایک اور نوٹس جاری کرتے ہوئے صوبائی وزیر کی آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں نوشہرہ میگا سٹی سے متعلق ریکارڈ مانگ لیا۔

یہ بھی پڑھیں :خیبرپختونخوا حکومت کی لگژری گاڑیوں کی خریداری پر پابندی ہٹانے کی تیاریاں

دستاویزات کے مطابق ہاوسنگ اتھارٹی میں صوبائی وزیرکے قریبی رشتہ داروں کو خلاف قواعد و ضوابط اہم ترین اور پرکشش عہدوں پر بھرتی کیا گیا بلکہ بھرتیوں کے اس عمل کے دوران صوبائی کابینہ کو بھی نظر انداز کیا گیا اور کابینہ سے منظوری لئے بغیر گریڈ17کی آسامیوں پر منظورنظر کو کھپایا گیا۔
دستاویزات کے مطابق ہاوسنگ اتھارٹی کی صرف ایک گاڑی نے ایک ہی وقت یکم مارچ 2025ء کو سوات موٹر وے فلنگ سٹیشن سے 800لیٹر پٹرول ڈلواتے ہوئے ایک ہی دن میں خرچ کر ڈالی۔

دستاویزات کے مطابق بھرتی ہونے والے چوکیدار اور مالی کو غیر قانونی طور پر گریڈ11ء میں جونئیر کلرک کے عہدوں پر ترقیاں دے دی گئیں۔
ناخواندہ مالی کی آسامی پر بھرتی فرد کی بعد میں سوات میں گریڈ11کی آسامی پر جونئیر کلرک تقرری کر دی گئی۔جبکہ ناخواندہ چوکیدار کو بھی گریڈ11میں آر ایف سی سوات میں جونئیر کلرک تعینات کر دیا گیا۔

اسی طرح گریڈ3میں بھرتی ہیلپر کو بعد میں گریڈ11میں بلڈنگ انسپکٹر آر ایف سی سوات اور گریڈ3میں بھرتی ہیلپر کو بعد میں گریڈ11میں سب انجینئر تعینات کیا گیا، اس ضمن میں بار بار ڈاکٹر امجد سے ان کا موقف لینے کیلئے رابطے کی کوشش کی گئی تاہم انہوں نے موقف دینے سے انکار کیا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *