نئے آئی جی پنجاب کی پہچان اور تجربات، جانئے ان کے کیریئر کے اہم موڑ

نئے آئی جی پنجاب کی پہچان اور تجربات، جانئے ان کے کیریئر کے اہم موڑ

وفاقی حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر راؤ عبدالکریم کو نیا انسپکٹر جنرل ( آئی جی ) پولیس پنجاب تعینات کر دیا گیا ہے۔ ان کا تعلق سندھ کے ضلع نواب شاہ سے ہے اور وہ پاکستان پولیس سروس کے سینئر، تجربہ کار اور طویل عملی پس منظر رکھنے والے افسر سمجھے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر راؤ عبدالکریم نے 1996 میں پولیس سروس جوائن کی اور تقریباً تین دہائیوں پر محیط کیریئر کے دوران سندھ اور پنجاب کے مختلف اہم اضلاع اور محکموں میں خدمات انجام دیں۔

ڈاکٹر راؤ عبدالکریم نے اپنے عملی کیریئر کا آغاز اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کے طور پر سکھر میں کیا۔ بعد ازاں انہیں سکھر سٹی میں سب ڈویژنل پولیس آفیسر تعینات کیا گیا، جبکہ سندھ کے علاقے لطیف آباد میں بھی وہ سب ڈویژنل پولیس آفیسر کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے۔ پنجاب میں تعیناتی کے دوران وہ چنیوٹ میں سب ڈویژنل پولیس آفیسر کے عہدے پر فائز رہے۔

یہ بھی پڑھیں:طلبعلموں کیلئے بری خبر،وفاقی آئینی عدالت کا امتحانی نظام کے متعلق بڑا فیصلہ

انہوں نے گوجرانوالہ، لاہور اور شیخوپورہ میں سپرنٹنڈنٹ پولیس کے طور پر ذمہ داریاں نبھائیں، جہاں امن و امان، جرائم کی روک تھام اور پولیس نظم و نسق سے متعلق امور کی نگرانی ان کی ذمہ داریوں میں شامل رہی۔ بعد ازاں انہیں ضلع میانوالی، قصور اور جھنگ میں بطور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر تعینات کیا گیا، جہاں انہوں نے فیلڈ پولیسنگ کا وسیع تجربہ حاصل کیا۔

اعلیٰ سطح پر انہیں ڈپٹی انسپکٹر جنرل ٹیلی کمیونیکیشن کے عہدے پر خدمات انجام دینے کا موقع ملا، جبکہ وہ ریجنل پولیس آفیسر گوجرانوالہ بھی رہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر راؤ عبدالکریم نے ڈپٹی انسپکٹر جنرل ٹریفک پنجاب کے طور پر صوبے بھر میں ٹریفک مینجمنٹ اور اصلاحات سے متعلق امور کی نگرانی کی۔

یہ بھی پڑھیں:آئی جی پنجاب اور ڈی جی ایف آئی اے کے اہم عہدوں پر نئی تقرریاں،نوٹفکیشن جاری

وہ پنجاب کانسٹیبلری کے کمانڈنٹ، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پنجاب ہائی وے پٹرول اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل اسپیشل برانچ پنجاب کے عہدوں پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان ذمہ داریوں کے دوران انہوں نے سکیورٹی، انٹیلی جنس اور شاہراہوں کی نگرانی جیسے اہم معاملات کوبھی سنبھالا۔

حکومتی اور پولیس ذرائع کے مطابق ڈاکٹر راؤ عبدالکریم کی بطور آئی جی پنجاب تعیناتی سے پولیسنگ کے نظام میں نظم و ضبط، پیشہ ورانہ صلاحیت اور ادارہ جاتی بہتری کی توقع کی جا رہی ہے، کیونکہ وہ فیلڈ، انتظامی اور انٹیلی جنس تینوں شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *